.

سعودی عرب: العلا فطرت اور تاریخ کا عجوبہ روزگار تہذیبی گہوارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے تاریخی اورمناظرفطرت سے مالا مال مقام العلا اپنے انسانی ورثے کی گہرائی اوراس کی فراوانی کی بدولت مملکت میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ العلا تاریخ ، ثقافت اور قدرتی خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔ العلا اپنی سیر کو آنے والوں کو پرسکون ماحول، کشادہ، تاریخی مقامات کی سیر کا احساس دلانے والا ایک کھلا میوزیم ہے۔

العلا ان دنوں سیاحت کی سرگرمیوں کا مرکزہے۔ خاص طورپر "اسپرٹ آف سعودی عرب" کے پلیٹ فارم visitsaudi.com کے ذریعے "سمر آف سعودی عرب" پروگرام شروع کیا۔ یہ پروگرام گذشتہ 24 جون سے شروع ہوا اور ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام میں سعودی عرب کے 11 مقامات کو سیاحتی منازل قرار دیا گیا۔ ان سیاحتی منازل میں العلا بھی شامل ہے۔

یہ شہر بہت سے سیاحتی تجربات اور مقامات سے مالا مال ہے۔ انسانی تاریخ، زمانہ رفتہ کی تہذیبوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ یہ قدرتی مقامات سے بھی بھرپور ہے۔ یوں یہ علاقہ فطرت اور تاریخ کا حسین امتزاج ہے۔

اس میں جہاں تاریخی قلعے، پرانی عمارتیں اور نقوش زائرین اور سیاحوں کو دعوت نظارہ پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف منفرد چٹانوں کی تشکیل، ڈھلوان ریت کے ٹیلے، کھجوروں اور دوسرے درختوں سے ڈھکی وادی، ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کی علامات، آثار قدیمہ ،عجائبات اور تاریخ کی گہرائیوں کو چھونے والے مقامات اور صاف ستھرے صحرا بھی کم دلکش اور دلنشین نہیں۔

العلا آنے والے سیاح جانتے ہیں کہ یہاں کا دن کس قدر شاندار اور دلفریب اور رات کس قدر پرسکون ہوتی ہے۔ دن کو دل لبھانے والے نظارے اور رات کے پرکیف مناظر سیاحوں کے لیے طلسم ہوش ربا سے کم سحر انگیز نہیں۔

سیاحوں کی اہم منزل

تاریخی شہرالعلا سیاحوں کی ایک اہم منزل ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران مملکت نے اندرون ملک اور بیرون ملک سیاحوں کو العلا کی طرف متوجہ کیا اوراس کے عظیم تاریخی ورثے، دلکش پہاڑی فطرت، زرخیز زمینوں اور وافر پانی کی طرف مبزول کرائی۔

جسے العلا کی سیاحت کا شوق ہو تو اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی سیاحت اس وقت تک نامکمل ہے جب تک وہ اس کے اہم مقامات کی سیر نہ کرے۔ ہرسال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے اہم اور قابل دید مقامات میں تاریخی مقام’مدائن صالح‘ ہے۔ پرانے زمانے میں اسے ’دارالحجر‘ یعنی پتھر کا گھر کہا جاتا تھا۔ العلا کی سیر کوآنے والا ہر سیاح مدائن صالح کو ضرور وزٹ کرتا ہے۔ یہ العلا گورنری کے مرکز سے 22 کلو میٹر دور ہے۔ یہاں پر ما قبل تاریخ کے آثار قدیمہ پائے جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت نے اس علاقے کو عالمی تاریخی ورثے میں شامل کررکھا ہے۔

العلا تہذیبوں کا گہوارا

العلا کو بجا طور پرتہذیبوں کا گہواراہ کہا جاتا ہے۔ اس کی گود میں ایسی تاریخی یادگاریں موجود ہیں جن کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ جو زمانہ قدیم کی تہذیبوں کی گواہی دیتی ہیں۔

جو دادن اور لحیان کی سلطنتوں کے دارالحکومت سے شروع ہو کر، نباتیوں کے تجارتی مراکز سے گزرتی ہوئی ، اور اسلامی دور تک پہنچتی ہے۔ الولا ، وادی اور سینڈی ریگستان میں بہت سی مہاکاوی چٹانیں اب بھی دریافت شدہ اسرار سے مالا مال ہیں ، نیز الولا کے امیر نخلستانوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، جو سینکڑوں سالوں سے تھکے ہوئے مسافروں اور زائرین کے قافلوں کی پناہ گاہ رہے ہیں۔

العلا کو دادان اور لحیان ادوار میں پایہ تخت کا درجہ حاصل تھا۔ نبطیوں کے دور میں یہ ایک مشہور کاروباری اورتجارتی مرکز تھا۔ اس کی یہ پہچان ظہور اسلام کے بعد بھی برقرار رہی۔ سیکڑوں سال سے حجاج کرام بھی یہاں سے گذرتے رہے۔ اس لحاظ سے العلا گورنری حجاج کے قافلوں کی گذرگاہ اور میزبان رہی ہے۔