.

وژن 2030 کی تحسین، سعودیہ سے ہمارے تعلقات اچھے اور تعمیری ہیں: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان ڈینس کومیٹیٹ نے العربیہ ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات اچھے اور تعمیری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ مفادات کی بنا پر اچھے اور تعمیری تعلقات ہیں۔ ان مفادات میں قابل اعتبار مذاکرات کی مروجہ پالیسی بھی شامل ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی وژن 2030 کی تعریف کی اور اس کے حصول بالخصوص وژن کی سماجی اصلاحات جن میں خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہے کے حصول میں مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے سعودی عرب کی مسلح افواج میں خواتین کیڈر ٹریننگ سینٹر کی پہلی پاسنگ آوٹ کو سراہاْ۔

انہوں نے سعودی فٹ بال ایسوسی ایشن کے خواتین کی قومی ٹیم بنانے کے فیصلے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیےیہ خوشی کی بات ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فٹ بال کی ماہر جرمن مونیکا اسٹاب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے سعودی خواتین ٹیم کی کامیابی لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

دو طرفہ تجارت

معاشی پہلو کے حوالے سے ڈاکٹر ڈینس کومیٹیٹ نے بتایا کہ سعودی عرب اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے مابین تجارتی تبادلے کا حجم 2020 میں تقریبا 5.8 ارب یورو تک پہنچ گیا تھا۔ جرمنی میں سعودی عرب کی برآمدات کا حجم0.9 ارب یورو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حجم کرونا کی وجہ سے سال 2019 کی نسبت کم رہا۔ تاہم مستقبل قریب میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافے کی توقع ظاہر کی۔

کومیٹیٹ نےکہا کہ جرمنی اور سعودی عرب کو ہائیڈروجن کی اہمیت کا ادراک ہے۔ یہ ایک جدید ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہا ہے جو کہ مختلف قسم کے معاشی اور ماحولیاتی فواید میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آج ہم خوش ہیں کہ ہمارے پاس جرمن سعودی ہائیڈروجن شراکت داری ہے اور ہم اسے مضبوط بناتے رہیں گے۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بہت سی جرمن صنعتی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے کاروبار کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہم ان کمپنیوں کو ریاض میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے جرمن سفیر ڈائٹر لاملے کی قیادت میں مدد فراہم کرتے ہیں اور جرمن- اقتصادی امور کے لیے سعودی رابطہ دفتر (GESALO) کام کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کی طرف سے کرونا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تحسین کی اور انہیں دانشمندانہ قرار دیا۔

کابل کی صورت حال

جرمن عہدیدار نے افغانستان کی صورت حال پربات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں فکر مند ہے۔ جرمن حکومت کو پچھلے چند ہفتوں کے دوران افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش لاحق رہی ہے۔جرمنی اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر افغان مسلے کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمنی افغانستان کی صورت حال بالخصوص انسانی حقوق کی صورت حال پراپنے دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حمایت ان کی داخلی اور خارجہ پالیسوں پر منحصر ہے۔