.

ہمارا گمان تھا کہ داعش نے خواتین کے بھیس میں صدارتی محل پر دھاوا بول دیا: طالبان

طالبان نے کابل میں خواتین کی ریلی کو ہوائی فائرنگ کر کے منتشر کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان تحریک طالبان کے ایک رکن نے چند روز قبل خواتین کی ایک احتجاجی ریلی کو پر تشدد طریقے سے روکے جانے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہمارا یہ گمان تھا کہ وہ خواتین کے بھیس میں داعش تنظیم کے عناصر ہیں"۔

افغان خواتین نے یہ ریلی ملک میں طالبان کے مکمل کنٹرول کے بعد خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرنے کے واسطے نکالی تھی۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کو دیے گئے انٹرویو میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن سہیل شاہین نے اُن اخباری رپورٹوں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے مظاہرے میں شریک خواتین کو منتشر کرنے کے واسطے انہیں لوہے کی زنجیروں سے مارا تھا۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ "خواتین کے ایک گروپ نے صدارتی محل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس پر وہاں کے پہرے دار محافظین یہ گمان کر بیٹھے کہ خراسان داعش تنظیم کے عناصر کسی دہشت گرد کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ لوگ خواتین کا روپ دھارے ہوئے ہیں، ہم یہ سمجھے کہ داعش تنظیم صدارتی محل گئی ہے!"

خواتین کے حقوق کے حوالے سے سہیل شاہین نے باور کرایا کہ "ہم تعلیم اور کام کے شعبوں میں خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے تاہم مسلمان خاتون ہونے کی حیثیت سے انہیں شریعت کے حکم کی پابندی کرنا ہو گی"۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز دارالحکومت کابل میں درجنوں خواتین نے ایک احتجاجی ریلی نکالی تھی۔ ریلی میں شریک خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں خواتین کے حقوق اور حکومت میں اعلی منصبوں پر ان کے تقرر کا مطالبہ کیا گیا۔ طالبان کے عناصر نے ان خواتین کی ریلی کا راستہ روک کر انہیں صدارتی محل کا رخ نہیں کرنے دیا۔

واضح رہے کہ طالبان کے ایک رہ نما نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ آئندہ حکومت میں خواتین شامل نہیں ہوں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی حکومت کے جلو میں خواتین اعلی ریاستی منصبوں پر فائز نہیں ہوں گی۔