.

امریکا ایران سے جوہری سمجھوتے میں واپسی کے بند دروازے کے’قریب‘پہنچ چکا: بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی سے دستبردار ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بلینکن جرمن حکام سے امریکا کے افغانستان سے مکمل انخلا کے اچانک فیصلے پرتبادلہ خیال کے لیے برلن میں تھے۔امریکی فیصلے کے چند روز کے بعد ہی طالبان نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرلیا تھا اور اب انھوں نے اپنی عبوری حکومت بھی تشکیل دے دی ہے۔

ان سے جب سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران سے طے شدہ مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) میں دوبارہ شمولیت سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’میں اس کی کوئی تاریخ تو مقرر نہیں کروں گا، لیکن ہم اس نقطہ کے قریب پہنچ رہے ہیں کہ اگراس سمجھوتے میں سخت تعمیل کے ساتھ واپسی ہوتی ہے تو اس سے مفید نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔‘‘

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم بہت واضح رہے ہیں کہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت اورباہمی تعمیل کی طرف لوٹنے کی صلاحیت غیرمعینہ مدت کے لیے نہیں ہوگی۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں یک طرفہ طور پراس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ صدرجو بائیڈن اس سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت چاہتے ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے ایران سے مذاکرات بھی کررہے ہیں لیکن ایران جوہری بم کے لیے درکارمواد کی افزودگی میں اضافہ کررہا ہے اور وہ جون سے ملتوی شدہ مذاکرات کی بحالی میں بھی پس وپیش سے کام لے رہا ہے۔