.

ترکی اورمصر میں مذاکرات کا دوسرا،دوطرفہ تعلقات معمول پرلانے کے لیے پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اورمصر نے انقرہ میں مذاکرات کے دوسرے دور میں متعدد موضوعات کے حوالے سے مفاہمت پرمزید اقدامات اورمشاورت جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

ترکی اورمصر کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق مشاورت کا دوسرا دور 7 اور8 ستمبر کو انقرہ میں ہوا ۔اس میں ترک وفد کی قیادت نائب وزیرخارجہ سیدات انال اور مصری وفد کی قیادت نائب وزیرخارجہ حامدی سند لوزا نے کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے متنازع امور پر پیش رفت اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مزید اقدامات پرآمادگی ظاہر کی ہےاور دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے سےاتفاق کیا ہے۔

دونوں ممالک نے مئی میں قاہرہ میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی اورعلاقائی امور پر’کھل کراوروسیع تربات چیت‘کی تھی۔ مصراور ترکی کے درمیان 2013ء میں اس وقت تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جب مصری فوج نے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

ڈاکٹر مرسی(مرحوم) ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی (آق)کی اتحادی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے اور انھوں نے ایک دوسرے کے سفیرکو نکال دیا تھا۔تب صدر ایردوآن نے مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی (بعد میں صدر) کو ظالم قرار دیا تھا۔

ترکی نے مصر کی جانب سے الاخوان المسلمون کو’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دینے کی مخالفت کی تھی۔البتہ اس نے حال ہی میں اپنی سرزمین سے نشریات پیش کرنے والے الاخوان المسلمون کے چینلوں سے کہا ہے کہ وہ صدرالسیسی پر تنقید میں اعتدال کا مظاہرہ کریں۔

مصری حکومت نے ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد الاخوان کو کالعدم قرار دے دیا تھا،اس کی اعلیٰ قیادت اور سیکڑوں کارکنان کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا تھا۔ان میں سے سیکڑوں کو پھانسی اور قید کی لمبی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔