.

سعودی عرب کا11ستمبرحملوں سے متعلق امریکا کی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے اجراء کاخیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے11ستمبر2001ء کے دہشت گرد حملوں سے متعلق امریکا کی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے اجراء کا خیرمقدم کیا ہے۔امریکا میں تین مقامات پر ان حملوں میں قریباً 3000 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لیکن واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے بدھ کو ایک بیان میں ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب ان حملوں میں ملوّث تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کی کسی ملی بھگت کا کوئی بھی الزام بالکل غلط اور من گھڑت ہے۔

بیان کے مطابق امریکا کے چار سابقہ صدور کی انتظامیہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی تھی اور مملکت سعودی عرب نے اپنے قریبی اتحادی اور شراکت دار امریکا کے خلاف ہونے والے افسوسناک جرائم کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدرجو بائیڈن نے محکمہ انصاف کو حکم دیا تھا کہ وہ نائن الیون حملوں کے بارے میں وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات کوجائزہ لے کرڈی کلاسیفائی کردے اورانھیں عوام کے لیے جاری کردے۔

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ الریاض تو ایک عرصے سے امریکی تحقیقات سے متعلق تمام مواد کوجاری کرنے کا مستقل طور پرمطالبہ کرتا چلا آرہا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ ماضی میں نائن الیون کمیشن کی تحقیقات کی رپورٹ سمیت نام نہاد’28 صفحات‘میں اس بات کا کوئی ثبوت کبھی سامنے نہیں آیا کہ سعودی حکومت یا اس کے حکام کو دہشت گرد حملوں کا پہلے سے علم تھا یا وہ کسی بھی طرح اس کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد میں ملوّث تھے۔

امریکا پرطیارہ حملوں میں بعض سعودی شہری شریک رہے تھے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے سعودی عرب پر ان میں ملوّث ہونے کا جھوٹا الزام عاید کیا تھا۔

اب 11ستمبر کے حملوں کی تحقیقات سے متعلق سابقہ مواد مثلاً 28 صفحات کےاجرا نے تحقیقاتی کمیشن کے اس انکشاف کی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کا اس بھیانک جرم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔سعودی سفارت خانے نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح تمام ترحقائق منظرعام پرآنے کے باوجود سعودی عرب کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پرمبنی دعوے برقرار ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’سعودی عرب اس برائی سے بہ خوبی آگاہ ہے جس کی نمائندگی القاعدہ اپنے نظریے اور اقدامات کے ذریعے کرتی ہے۔امریکاپرہم گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے بھی القاعدہ کا سب سے بڑا ہدف رہے ہیں اور امریکا کے ساتھ ساتھ سعودی مملکت نے دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے میں کوئی کسرنہیں اٹھا رکھی ہے۔‘‘

’’سعودی عرب کواپنے انسداد دہشت گردی کے ریکارڈ پر بہت فخر ہے جس میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی مالی معاونت کو ناکام بنانے کی کوششیں، عوام کی سطح پراورآن لائن دونوں میں انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد اور ہمارے پورے خطے میں دہشت گرد تنظیموں کا استیصال اور شکست شامل ہیں۔‘‘

سعودی سفارت خانے نے حملوں کی تحقیقات سے متعلق کسی بھی دستاویزات کومکمل طورپرغیردرجہ بندکرنے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دستاویزات کے مکمل اجراء سے مملکت کے خلاف بے بنیاد الزامات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔