طالبان حکومت میں حقانی نیٹ ورک کے 4 وزرا امریکی تشویش کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں تحریک طالبان کی نئی عارضی حکومت کے ارکان کے اعلان کے بعد اب تک امریکا کے سوا بین الاقوامی سطح پر کوئی واضح تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

نئی افغان حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس حکومت میں اہم منصبوں پر کام کرنے کے لیے چُنی گئی بعض شخصیات کی "وابستگی اور ریکارڈ" تشویش کا باعث ہے۔ یہ موقف منگل کی شام جاری ایک مختصر بیان میں سامنے آیا ہے۔

واشنگٹن کے لیے ممکنہ باعث تشویش وابستگی افغان وزیر اعظم "محمد حسن اخوند" کا نام ہو سکتا ہے جو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں درج ہے۔ اخوند 1996ء سے 2001ء تک طالبان حکومتی نظام کا حصہ تھے۔

البتہ سب سے زیادہ تشویش کا باعث سراج الدین حقانی کا نام ہے جن کو نئی حکومت میں وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔

سراج الدین کے "حقانی نیٹ ورک" کا نام دہشت گرد تنظیموں سے متعلق امریکی فہرست میں شامل ہے۔ امریکی ایف بی آئی سراج الدین کی جگہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر چکا ہے۔

سراج الدین کے علاوہ نئی افغان حکومت میں 3 مزید وزراء کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ یہ خليل الرحمن حقانی (وزیر مہاجرین) ، عبدالباقی حقانی (وزير اعلی تعلیم) اور نجیب اللہ حقانی (کمیونی کیشن اور ٹکنالوجی کے وزیر) ہیں۔

نئی افغان حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں۔ پہلا بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا اور دوسرا ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کے سہارے کے واسطے بین الاقوامی امداد کے سلسلے کی بحالی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں