.

طالبان کا امریکاسے اپنے وزیرداخلہ حقانی کا نام بلیک لسٹ سے ہٹانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے نئے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کا نام اپنی بلیک لسٹ سے ہٹا دے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایک بیان میں امریکا سے یہ مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کے محکمہ دفاع (پینٹاگان) کے مطابق سراج الدین حقانی کو2015 میں طالبان کا نائب امیر مقررکیاگیا تھا اور وہ مزاحمتی کارروائیوں کی نگرانی کرتے رہے تھے۔ وہ 2016ء میں طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوند زادہ کے دو نائبوں میں سے ایک بن گئے تھے۔

طالبان نے گذشتہ ماہ امریکی فوج کے مکمل انخلا سے قبل ہی افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے اسی ہفتے اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے اور اس میں سراج الدین حقانی کو وزارت داخلہ کا منصب سونپا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سراج الدین حقانی نے جنوری 2008ء میں کابل میں واقع سرینا ہوٹل پر حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا۔اس میں ایک امریکی شہری سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مارچ 2008ء میں ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت انھیں خصوصی طورپرنامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے سراج الدین حقانی سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کررکھا ہے۔واضح رہے کہ سراج الدین حقانی کے والد مولاناجلال الدین حقانی نے 1970ء کے عشرے کے آخر میں حقانی نیٹ ورک قائم کیا تھا۔

اس گروپ کو افغانستان میں بہت سے ہائی پروفائل حملوں کا ذمہ دارقرار دیا جاتا ہے۔ان میں ستمبر2011ء میں کابل میں امریکی سفارت خانے اوراس کے نزدیک واقع بین الاقوامی سلامتی امدادی فورس (آئی ایس اے ایف) کے ہیڈکوارٹر پرحملہ بھی شامل تھا۔یہ حملہ 19 گھنٹے تک جاری رہا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے7ستمبر2012ء کو حقانی نیٹ ورک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔