.

وڈیو: مصری ڈاکٹر کا مرد نرس کو اپنے کتے کے آگے ماتھا ٹیکنے کے مطالبے پرعوام میں غضب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سیکورٹی ادارے گذشتہ روز سے سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر کثرت سے زیر گردش رہنے والی ایک وڈیو کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ وڈیو نئی ہے یا پرانی .. تقریبا 4 منٹ کے دورانیے پر مشتمل وڈیو میں قاہرہ کے ایک ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک عمر رسیدہ مرد تیمار دار (نرس اسٹاف) کو اپنے کتے کے سامنے ماتھا ٹیکنے پر مجبور کر رہا ہے۔

اس دوران میں ہسپتال کی سیکورٹی میں ملبوس دو افراد بھی وڈیو میں موجود ہیں جو ایک رسی کے کنارے پکڑے ہوئے ہیں اور مذکورہ مرد نرس اس پر رسی کود رہا ہے۔ دریں اثنا ڈاکٹر نے مرد نرس کو سخت سست کہنا شروع کر دیا کیوں کہ اس نے ڈاکٹر کے کتے کی توہین کی تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے مرد نرس کو مجبور کیا کہ کتے کے سامنے اپنا ماتھا زمین پر ٹیکے۔

مرد نرس نے ڈاکٹر کے اس قبیح مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کو ترجیح دی کہ اسے بجلی کا کرنٹ لگا دیا جائے کیوں کہ یہ غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے ہلکی بات ہو گی۔ البتہ ڈاکٹر کی جانب سے اپنے مطالبے پر اصرار جاری رہا۔

اس وڈیو کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کرنے والوں میں ڈاکٹروں کی انجمن کے سکریٹری ڈاکٹر اسامہ عبدالحئی بھی شامل ہیں۔

گذشتہ شام MBC مصر سیٹلائٹ چینل کے ایک پروگرام میں ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران میں ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ان کی انجمن کو اس وڈیو کے حوالے سے اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس وڈیو میں سامنے آنے والی حرکت یقینا حدود سے تجاوز ہے خواہ یہ سب کچھ ازراہ تفنن ہی کیا گیا ہو۔

ڈاکٹر اسامہ کے مطابق اس نوعیت کی وڈیو ایک المیہ ہے جسے کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامی استغاثہ اس واقعے کی تحقیقات کی ذمے دار ہے کیوں کہ یہ انتظامی خلاف ورزی ہے کوئی تکنیکی یا طبی غلطی نہیں۔