.

عرب اتحادنے خمیس مشیط کی جانب آنے والاحوثیوں کا بارود سے لدا ڈرون مارگرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے ہفتے کے روز یمن سے چھوڑا گیاایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا بارود سے لدا ایک اورڈرون مارگرایا ہے۔حوثیوں نے اس ڈرون سے سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

عرب اتحاد نے ایک بیان میں حوثیوں کے نئے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ’’ہم حوثیوں کے اس طرح کے معاندانہ حملوں سے شہریوں اور شہری اہداف کو بچانے کے لیے آپریشنل اقدامات کررہے ہیں۔‘‘

حوثی ملیشیا نے حالیہ مہینوں میں یمن کے شمال سے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور علاقوں کی جانب بارود سے لدے متعدد ڈرون بھیجے ہیں اور میزائل داغے ہیں۔عرب اتحاد ان ڈرون حملوں کے بروقت تدارک اور ان سے شہریوں اور شہری ڈھانچے کو بچانے کے لیے دفاعی اقدامات کررہا ہے۔

عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کی پشت پناہ قوتوں نے شہریوں اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی ننگی خلاف ورزی اورانسانی اقدار کے صریحاً منافی ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘‘

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ جمعرات کو سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب تین ڈرونز چھوڑے تھی لیکن سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے انھیں فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا۔

ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے حال ہی میں سعودی عرب پر اپنے حملے تیز کردیے ہیں اوربارود سے لدے دسیوں ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے ہیں جن میں سے بیشتر اتحاد اور سعودی عرب کی دفاعی افواج نے ناکارہ بنا دیے ہیں۔

اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے گذشتہ بدھ کو سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حوثیوں کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرے۔ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ضمن میں اپنی ذمہ داری نبھائے،اس کو ہتھیاروں کی دستیابی کی روک تھام کرے اور اس کے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرے کے موجب اقدامات کی بیخ کنی کرے۔

اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں سعودی سفیرعبداللہ المعلمی نے کہا کہ حوثی گروپ کے اقدامات ’’بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی‘‘ہیں۔

انھوں نے خط میں کہا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور قومی صلاحیتوں کے تحفظ،سرحد پارسے جارحیت کی ان معاندانہ کارروائیوں کی روک تھام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق شہریوں اور شہری اشیاء کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مشن نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ حملے علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ ہیں اور یمن میں جامع سیاسی حل تک پہنچنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

سعودی عرب نے یمن میں گذشتہ چھے سال سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے مارچ میں جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی لیکن ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جبکہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اس تجویزکا خیرمقدم کیا تھا۔