.

کیا واشنگٹن ایران کی طرح طالبان کو بھی ملکی اثاثوں سے محروم کر دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان تحریک کی جانب سے دوبارہ سے ملک کا کنٹرول سنبھالے ایک ماہ کے قریب گزر چکا ہے تاہم تحریک ابھی تک افغان مرکزی بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر پر ہاتھ رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ان ذخائر کا اندازہ تقریبا 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ امریکا نے اگست میں افغان حکومت کے سقوط کے بعد مرکزی بینک کے اثاثوں کا بڑا حصہ منجمد کر دیا جس کی مالیت 9.5 ارب ڈالر ہے۔ اس کا کچھ حصہ نیویارک میں محفوظ ہے۔

مالی رقوم کے بغیر طالبان کو مطلوب فنڈ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ یہ صورت حال اُن حالات سے ملتی جلتی ہے جب ایرانی سخت گیروں کی جانب سے سال 1979 میں اقتدار پر قبضے کے بعد امریکا نے کئی دہائیوں کے لیے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے تھے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی انقلاب کے بعد سے تہران نے کم از کم 40 کروڑ ڈالر کی واپسی کی کوشش جاری رکھی۔ یہ رقم پینٹاگان کے ٹرسٹ فنڈ میں محفوظ تھی۔

منجمد رقوم کئی دہائیوں تک امریکا اور ایران کے درمیان تعلق میں کانٹا بنی رہیں۔ یہاں تک کہ سال 2016 میں اوباما انتظامیہ کے تحت جنیوا میں غیر اعلانیہ ذرائع سے یہ رقم واپس کی گئی۔ ساتھ ہی ایرانی جیلوں میں قید چار امریکی شہریوں کو بھی رہا کیا گیا۔ اگرچہ اوباما انتظامیہ کا اصرار رہا کہ یہ رقم کوئی تاوان نہیں تھا۔

افغانستان میں طالبان تحریک نے منگل کے روز نئی عبوری حکومت تشکیل دے دی تا کہ ملک میں دوسری مرتبہ حکومت کی جا سکے۔

کورنیل یونیورسٹی میں قانون اور فنڈنگ کے پروفیسر روبرٹ ہوکیٹ کے مطابق اگر طالبان نے اپنی حکمرانی کئی دہائیوں تک جاری رکھی تو ایران کی طرح طالبان کو بھی کئی دہائیوں تک مالی رقوم کے انجماد کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہوکیٹ نے مزید بتایا کہ امریکا یہ قانونی اختیار رکھتا ہے کہ اگر کسی حکومت کی جگہ کوئی غیر آئینی حکومت آ جائے تو امریکا حکومت کے قبضے میں موجود اثاثوں کو منجمد کر سکتا ہے۔

امریکی پروفیسر کے مطابق زر مبادلہ کے اربوں ڈالر کے ذخائر طالبان کے سامنے آنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ طالبان اپنی روش اور نہج سے دست بردار ہو جائیں۔

اس سے قبل افغان مرکزی بینک کے گورنر کے ناظم الامور اجمل احمدی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتا چکے ہیں کہ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں سے تقریبا 7 ارب ڈالر نیو یارک میں فیڈرل ریزرو کے پاس محفوظ تھے جب کہ 1.3 ارب ڈالر کو بین الاقوامی بینک کھاتوں میں ڈپازٹ کیا گیا۔

قانون اور فنڈنگ کے پروفیسر روبرٹ ہوکیٹ کا کہنا ہے کہ افغان اثاثے امریکا میں ’غیر معینہ مدت کے لیے‘ منجمد رہ سکتے ہیں۔ قانون کی رُو سے یہ عرصہ سیکڑوں برس بھی ہو سکتا ہے۔