.

القاعدہ سربراہ الظواہری کی نئی وڈیو جاری، وفات سے متعلق افواہیں دم توڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کے سربراہ ایمن الظواہری کا ایک نیا وڈیو کلپ جاری کیا گیا ہے۔ یہ وڈیو کلپ گذشتہ روز ہفتے کو امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ کافی عرصے سے یہ افواہیں پھیلی ہوئی تھیں کہ الظواہری فوت ہو چکے ہیں۔ بالخصوص گذشتہ برس اکتوبر سے کوئی بھی ایسا اشارہ سامنے نہیں آیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہو کہ القاعدہ سربراہ ابھی تک زندہ ہیں۔

نئی وڈیو کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہے اور اسے سوشل میڈیا پر القاعدہ تنظیم کے اکاؤنٹس نے جاری کیا ہے۔ وڈیو میں الظواہری نے رواں سال جنوری میں شام کے صوبے الرقہ کے علاقے تل السمن میں کار بم حملے کو سراہا۔

اس حملے کی ذمے داری القاعدہ کے زیر انتظام گروپ "حراس الدين" نے قبول کی تھی۔

القاعدہ کے سربراہ نے زور دیا کہ دشمن پر اقتصادی اور عسکری دونوں طرح کے وار کیے جائیں۔

الظواہری نے افغانستان سے امریکی انخلا پر بھی روشنی ڈالی جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ وڈیو کلپ نیا ہے۔ البتہ انہوں نے کابل پر طالبان کے کنٹرول پر بات نہیں کی۔

یاد رہے کہ ایمن الظواہری نے مئی 2011 میں پاکستان میں ایبٹ آباد آپریشن میں امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تھی۔

گذشتہ برس اکتوبر اور نومبر میں ایسی کئی رپورٹیں سامنے آئی تھیں جن میں امکان ظاہر کیا گیا کہ الظواہری بیماری کے سبب فوت ہو چکے ہیں۔

بعد ازاں القاعدہ تنظیم کی پوسٹس اور ریکارڈنگز میں الظواہری کی حالت کے بارے میں حقائق سامنے نہ آنے کے سبب ان شکوک کو تقویت ملی تھی۔