.

امریکا11ستمبرکے حملوں سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات جاری کرے: سعودی وزیرخارجہ

امریکاکی جاری کردہ نئی خفیہ دستاویزات سے ایک مرتبہ پھرتوثیق ہوگئی؛سعودی عرب کاحملوں میں کوئی کردارنہیں تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکا سے 11 ستمبر کے حملوں سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات کے اجرا کامطالبہ کیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی منکشف کردہ نئی خفیہ دستاویزات سے بھی اس امر کی توثیق ہوئی ہے کہ سعودی عرب ان حملوں میں ملوّث تھا اور نہ اس کا کسی قسم کا کوئی کردارتھا۔

شہزادہ فیصل نے اتوار کے روز الریاض میں آسٹروی ہم منصب الیگزینڈر شلنبرگ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سمیت عالمی برادری کا شراکت دار ہے اور ہم ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘‘

آسٹروی وزیرخارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کا خطے کی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ہے۔

حوثی ملیشیا کے حملے

وزیرخارجہ نے یمنی عوام اورسعودی عرب کے شہروں کی جانب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ہم حوثیوں کے ہاتھوں یمنی عوام کو یرغمال بنانے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔

آسٹروی وزیرخارجہ نے بھی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں شہروں اورشہری تنصیبات کوڈرون اور میزائل حملوں میں نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں جامع جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے لیکن ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے جنگ بندی پراتفاق نہیں کیا اوروہ اپنی مسلح کارروائیوں کے ذریعے شہریوں کو مسلسل ڈرا دھمکا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمن میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے اوراب اس کی ذمہ داری حوثیوں پر عاید ہوتی ہے کہ وہ جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کے حملوں سے ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی عرب کے شہر الدمام جیسی شہری تنصیبات کوخطرہ لاحق ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب حوثیوں کے کسی بھی حملے کا جواب دینے اور ان کے کسی ہدف کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

ايران

انھوں نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ہم ایران کوجوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے چھے عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کا احترام نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک طویل المیعاد اور مضبوط سمجھوتے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام پُرامن ہو اوراس سے خطے میں امن واستحکام میں مدد ملے۔

الیگزینڈرشلنبرگ نے اس موقع پرکہا کہ نئی ایرانی انتظامیہ کی جانب سے ہمیں کوئی حوصلہ افزااور مثبت اشارے نہیں ملے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔‘‘