.

انسانی حقوق؛کیاامریکا مصرکی فوجی امداد میں سے 13 کروڑڈالرروک لے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے انسانی حقوق کی مبیّنہ خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کے پیش نظرمصر کو دی جانے والی سالانہ فوجی امداد میں سے 13 کروڑ ڈالر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصرکو امریکا کی جانب سے سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے، اس رقم میں سے کانگریس نے 30 کروڑ ڈالر کو مصر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے مشروط کررکھا ہے۔

تاہم امریکی وزیرخارجہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس شرط کو ختم کردیں اوریوں تمام امدادی رقم مصر کومنتقل کی جا سکتی ہے اورماضی میں ایسے ہی ہوتا رہا ہے۔

امریکی جریدے پولیٹیکو نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکی عہدہ دار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرخارجہ انٹونی بلینکن اس اختیار کوفی الوقت استعمال نہ کرنے کاارادہ رکھتے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی پاسداری تک فنڈز کے اجرا کی اجازت دینے کوتیار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان 30 کروڑ ڈالرمیں سے 13 کروڑ ڈالرمصر کو اس وقت تک نہیں ملیں گے جب تک صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت انسانی حقوق کی بعض شرائط کو پورا نہیں کردیتی ہے۔

مصر پرباقی 17 کروڑ ڈالر کو خرچ کرنے کے لیے امریکا کی جانب سے الگ سے قدغنیں عاید کی جائیں گی اور اس رقم کو صرف چند مخصوص کاموں کے لیے خرچ کرنے کی اجازت ہوگی۔ ان کاموں میں انسداد دہشت گردی، سرحدوں پر سلامتی اوربڑے پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں کاعدم پھیلاؤ شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام کوحیرت انگیز قراردیا جارہا کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے مصرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرآنکھیں موندلینے کی روایت سے انحراف کیا ہے۔البتہ اس کا یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ صدر جوبائیڈن کے زیرقیادت وائٹ ہاؤس انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے پختہ عزم پرسنجیدگی سے کاربند ہے۔