.

کابل ائیرپورٹ پر رہ جانے والے کتوں کو نیا گھر مل گیا

کابل ائیرپورٹ پر سیکیورٹی کی ذمہ دار کمپنی کے ملازمین نے کتوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کابل ائیرپورٹ پر امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے انخلا کے دوران رہ جانے والے تربیت یافتہ کتوں کو ائیرپورٹ پر ہی ایک عارضی ٹریننگ سنٹر میں نیا گھر اور نئے مالک مل گئے ہیں۔

ائیرپورٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ دار کمپنی کے ملازمین نے ان پنجروں میں بند کتوں کی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کتے کابل ائیرپورٹ کے امریکی فوج کے زیر استعمال حصے میں پائے گئے تھےمگر امریکیوں سمیت کسی نے ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سیکیورٹی کمپنی کے ایک ملازم ھواد عزیزی کے مطابق جیسے ہی انہیں اطلاع موصول ہوئی کہ امریکی فوجی روانہ ہوگئے ہیں وہ ان کتوں کو تلاش کرنے ائیرپورٹ پر آگئے۔

انہیں ائیرپورٹ میں 30 کتے پنجروں میں بند ملے جن میں سے آدھے امریکی فوج کے زیر کنٹرول علاقےمیں سے پائے گئے تھے اور باقی ماندہ افغان پولیس کے زیر انتظام عمارت میں بند تھے۔

ان تمام کتوں کی اب سکیورٹی کمپنی کے ملازمین، عزیز اور ان کے ساتھی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور انہیں دو کنٹینروں سے بنائے گئے عارضی دفتر میں رکھا گیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے 30 اگست کو افغانستان سے تمام امریکی فورسز کے انخلاء کا اعلان کیا تھا جس کے بعد افراتفری کے عالم میں امریکی اور ان کے اتحادی افواج اور افغانستان میں موجود امریکی معاون افغان باشندے کابل ائیرپورٹ سے انخلاء کو پورا کیا گیا۔

دھماکا خیز مواد سونگھنے والے کتے

امریکی افواج کے انخلاء مکمل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی جانوروں کے حقوق کی امریکی تنظیم 'PETA' نے بیان جاری کیا کہ امریکی فورسز 60 دھماکا خیز مواد سونگھنے والے کتے اور 60 دیگر کتے افغانستان میں چھوڑ گئے ہیں۔

گروپ نے افغان صدر جو بائیڈن سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ایکشن لیں اور خبردار کیا کہ ان کتوں کو گرمی میں کھانے اور پانی کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے جس میں وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی جانب سے فوری طور پر اس امر کی تردید کی گئی کہ امریکی فوجی اپنے کتے ائیرپورٹ پر چھوڑ گئے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کے مطابق "ہم غلط رپورٹس کی تصحیح کرتے چلیں کہ امریکی فوج نے حامد کرزئی ائیرپورٹ پر کسی کتے کو نہیں چھوڑا۔"