.

امارات کا سال 2031 تک اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم دس کھرب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت عبداللہ بن طوق کا کہنا ہے کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات کا حجم دس کھرب ڈالر سے زیادہ تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا میں پیر کے روز ایک ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طوق نے بتایا کہ ان کے ملک نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے بعد سے اب تک 60 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ آئندہ دو برسوں میں دونوں ملکوں کے بیچ تجارت میں تیزی آئے گی۔

امریکی ویب سائٹ بلومبرگ کے مطابق امارات دفاع، توانائی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔

اماراتی وزیر معیشت کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ تجارت کا حالیہ حجم 60 سے 70 کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ علاوہ ازیں اربوں ڈالر کے منصوبے بھی ہیں جن کا دونوں ملکوں کی جانب سے مشترکہ طور پر اعلان کیا جا چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے رواں ماہ کے دوران میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایشیا اور افریقا میں تیزی سے پروان چڑھتی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو گہرا بنانے کے لیے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں 150 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہے۔