.
افغانستان وطالبان

عورتوں کے مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کی اجازت نہیں ہونی چاہیے: طالبان کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنھبالنے کے بعد خواتین کی آزادیوں پر قدغنیں عاید ہیں۔ دوسری طرف طالبان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ خواتین اور مردوں کے ایک ساتھ کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے۔

ایران کے بین الاقوامی عربی چینل کے مطابق ایک سینیر طالبان عہدیدار وحید اللہ ہاشمی نے رائیٹرز کو بتایا کہ افغان خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے طالبان حکومت میں افغانستان کے مختلف طبقات کی نمائندگی نہ ہونے پر "مایوسی" کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی بھی مذمت کی۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں سیشن سے خطاب میں بیچلیٹ نے کہا کہ وہ نام نہاد عبوری حکومت میں افغانستان کے تمام طبقات کی نمائندگی نہ ہونے پر مایوس ہیں۔ یہ ایسی حکومت ہے جس میں کوئی عورت شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس میں غیر پشتون ارکان کی تعداد بھی نہ ہونے برابر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے طالبان کے وعدوں کے برعکس پچھلے ہفتوں کے دوران خواتین کو آہستہ آہستہ عوامی معاملات سے خارج کر دیا گیا ہے۔

’یو این ایچ سی آر‘ نے گذشتہ اگست میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے سنگین خلاف ورزیوں کی خبروں کے بارے میں خبردار کیا تھا جن میں شہریوں کی ماورائے عدالت قتل ، خواتین پر پابندیاں اور طالبان تحریک کی حکمرانی کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا شامل ہیں۔