.

’’سوڈان اکتوبر میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان آئندہ ماہ اکتوبر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے۔ معاہدے پر دستخط امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں ہوں گے۔

امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کرنے والی شخصیات کے انتخاب کے لیے ابھی تک مشاورت جاری ہے۔ توقع ہے کہ تقریب میں عبوری خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان، سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور امریکی صدر جو بائیڈن شریک ہوں گے۔

الشرق ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنرل البرہان اور وزیر اعظم حمدوک کی شرکت اس جانب مثبت اشارہ ہے کہ سوڈان میں حکومت کے شراکت دار اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات پر آمادہ ہیں۔

بعض دیگر ذرائع کے مطابق سوڈان کی خاتون وزیر خارجہ مریم الصادق المہدی کی اس تقریب میں شرکت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ غالبا وہ اس حوالے سے پہلے ہی معذرت کر چکی ہیں۔ اس لیے کہ ان کا تعلق "حزب الامۃ" سیاسی جماعت سے ہے اور یہ جماعت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کو مسترد کرتی ہے۔ حزب الامۃ اسے ملک و قوم کے اعلی ترین مفاد کے خلاف شمار کرتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مریم الصادق کی جانب سے معذرت نے دستخط کی تقریب میں سوڈانی وزیر انصاف نصر الدین عبدالباری کی شرکت کا امکان بڑھا دیا ہے۔

اس سے قبل سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کا دفتر اسرائیل کے ساتھ "ابراہم" امن سمجھوتوں پر دستخط کے حوالے سے اعلان کر چکا ہے۔ اعلان میں باور کرایا گیا کہ مشرق وسطی اور دنیا بھر میں رواداری، مکالمے اور مختلف اقوام و ادیان کے بیچ باہمی بقا کے معانی کو راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ چیز امن کی ثقافت کو پائیدار بنانے میں کام آئے گی۔

اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے مقابل ،،، امریکا نے گذشتہ برس 14 دسمبر کو سوڈان کا نام "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک" کی فہرست سے سرکاری طور پر خارج کر دیا تھا۔

سوڈان نے اس اقدام پر گذشتہ برس اکتوبر میں آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری کے بغیر ہر گز نافذ العمل نہیں ہو گا۔ سوڈان کی نئی پارلیمںٹ کی تشکیل ابھی تک عمل میں نہیں آئی ہے۔