.
افغانستان وطالبان

میرے زخمی ہونے کی خبریں محض افواہ ہیں، ملا برادر کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے عبوری سینئر نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے ایک ویڈیو انٹرویو میں اپنے زخمی ہونے اور طالبان میں اندرونی خلفشار کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

افغانستان کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے لئےجانے والے ٹی وی انٹرویو میں ملا برادر کا کہنا تھا کہ "میرے زخمی ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں میں بالکل ٹھیک اور صحت یاب ہوں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "کچھ میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان میں اندرونی خلفشار ہے مگر ایسا ہرگز نہیں۔ ہمارے درمیان کسی قسم کا جھگڑا نہیں ہوا۔" ملا برادر نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ "کوئی پریشانی والی بات نہیں۔"

اس سے قبل طالبان کے ثقافتی کمیشن کے ایک رکن نے اعلان کیا تھا کہ افغان سرکاری ٹی وی آر ٹی اے کے توسط سے ملا برادر کا انٹرویو دکھایا جائے گا جس میں "دشمن کے پراپیگنڈا" کو جعلی ثابت کیا جائے گا۔ طالبان حکام نے ملا برادر کے زخمی ہونے کی خبروں کی بارہا تردید کی ہے۔

خبروں کے مطابق ملا برادر اور ان کے حامیوں کا طالبان میں شامل حقانی نیٹ ورک کے حامیوں سے تصادم ہوا تھا جس کے بعد وہ زخمی ہوگئے تھے۔ان خبروں کو اس وقت مزید جلا ملی جب ملا برادر قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کو ملنے والے افغان وفد میں شامل نہیں تھے۔

ملا برادر نے وضاحت کرتے ہوئے انٹرویو میں بتایا کہ "قطری وزیر خارجہ کے دورے کے وقت وہ قندھار کے دورے پر تھے اور دورے کی پہلے سے اطلاع نہ ہونے کے سبب وقت پر واپس نہیں آ سکے۔

اس سے قبل بدھ کے روز طالبان کی عبوری کابینہ میں نامزد وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں تحریک طالبان میں کسی اندرونی خلفشار کی رپورٹس کو رد کر دیا۔