.

گذشتہ برس منجمد دہشت گردی کی مالی رقوم میں حزب اللہ سرفہرست رہی : امریکی وزارت خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق دہشت گردی کی سرگرمیوں اور اس کی سرپرستی کے سبب 2020ء کے دوران میں منجمد کی جانے والی رقوم اور اثاثوں کی مجموعی مالیت 20.3518 کروڑ ڈالر تھی۔ اس حوالے سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ سرفہرست رہی۔

یہ بات گذشتہ ہفتے وزارت خزانہ کی جانب سے کانگریس کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں سامنے آئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ پوری رقم 64 دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہے۔ ان کو بیرونی اداروں کو بھیجا گیا تھا جس پر امریکی حکومت نے اسے حاصل کر لیا۔ واضح رہے کہ ان گروپوں کی مالی سرگرمیاں بین الاقوامی بینکوں میں کڑی نگرانی کے تحت ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے مذکورہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حزب اللہ فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کی منجمد رقم 2.3 کروڑ ڈالر رہی۔ القاعدہ تنظیم 38 لاکھ ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ ایرانی پاسداران انقلاب اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے جس کی منجمد کی گئی کُل رقم 10.49 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس کے منجمد ہونے والے مالی اثاثوں کا حجم دس لاکھ ڈالر کے قریب ہے۔ فہرست میں بوکوحرام اور شباب ملی وغیرہ جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

جہاں تک دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کا تعلق ہے تو ان میں ایران ، شمالی کوریا اور شام نمایاں رہے۔ گذشتہ برس 2020ء کے دوران میں اس بنیاد پر منجمد کیے گئے مالی اثاثوں کا مجموعی حجم 14 کروڑ ڈالر رہا۔ سال 2019ء میں یہ رقم 18.7 کروڑ ڈالر تھی۔

وزارت خزانہ کی حالیہ رپورٹ یہ باور کراتی ہے کہ امریکا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اس کے شراکت داروں کی جانب سے عائد پابندیوں نے ثابت کیا ہے کہ راستہ مالی اثاثے منجمد کرنے سے زیادہ مؤثر اور کارگر ہے۔