.

آبدوزوں کے تنازع کے بعد آسٹریلیا قابل اعتبار نہیں رہا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی جانب سے فرانسیسی آبدوزوں کے بجائے امریکی آبدوزیں خریدنے کے اعلان کے بعد فرانس نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر جاری مذاکرات میں آسٹریلیا پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پیرس نے کینبرا کے فیصلے کو "پیٹھ میں چھرا" گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام وسیع پیمانے پر تجارتی مذاکرات کو متاثر کر سکتا ہے۔

فرانس کے یورپی امور کے وزیر مُملکت کلیمینٹ بون نے ایک فرانسیسی نیوز چینل کو بتایا ہم آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کر رہے ہیں مگر مُجھے نہیں معلوم کہ ہم اپنے آسٹریلوی شراکت داروں پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن جو رکن حکومتوں کی جانب سے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کا ذمہ دار ہےنے کہا ہے کہ آسٹریلیا نے اس موسم بہار میں 2018 میں شروع ہونے والے تجارتی مذاکرات کا گیارہواں دور مکمل کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور تجارت، سروسز، سرمایہ کاری اور دانشورانہ املاک کے حقوق سمیت تمام شعبوں کا احاطہ کرے گا۔

تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار

یورپی یونین آسٹریلیا کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں میں سال 2020 کے دوران تجارتی حجم تقریبا 36 ارب یورو اور خدمات میں 26 ارب تک پہنچ گیا تھا۔

فرانسیسی آبدوزیں
فرانسیسی آبدوزیں

فرانس کا جزوی طور پر سرکاری ملکیت والا نیول گروپ آسٹریلیا کے لیے 12 روایتی طاقت سے چلنے والی آبدوزیں بنانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ گروپ فرانسیسی ایٹمی طاقت سے چلنے والی باراکوڈا آبدوز کی تیاری پر بھی کام کر رہا تھا۔

تاہم امریکی صدر جو بائیڈن اور آسٹریلوی اور برطانوی وزرائے اعظم نے بدھ کے روز ایک نئے دفاعی معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت کینبرا کو ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کا ایک بیڑا ملے گا۔ اس سے قبل امریکا نے اس نوعیت کی دفاعی ٹیکنالوجی صرف برطانیہ کو دی ہے۔