.

اسرائیل عرب ممالک کے مابین معاہدوں سے اقتصادی مواقع پیدا ہوئے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل، مراکش ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور عرب ملکوں کےدرمیان تعلقات کے قیام سے خطے میں اقتصادی مواقع پیدا ہوئے۔

گذشتہ سال تین عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ طے پائے تعاون کے معاہدوں کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنے اماراتی، بحرینی، مراکشی اور اسرائیلی ہم منصبوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان معاہدے امریکا اور پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔

بلنکن نے کہا کہ یہ امن معاہدے نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کا باعث بنے۔ ان معاہدوں کے نتائج اور اثرات سفارتی تعلقات کی گہرائی اور دستخط کنندہ فریقوں کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ سے ظاہر ہوتے ہیں۔

’معاہدوں کے ثمرات مل رہے ہیں‘

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نےباور کرایا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کے نتیجے میں ہم نے بہت سے ثمرات حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں مزید کہا کہ تل ابیب ایک مستحکم مشرق وسطیٰ کی تلاش میں امن معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات اور مملکت بحرین کے ساتھ طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ بے مثال معاہدے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امن کی تاریخ کا ایک نیا باب تشکیل دینے کا باعث بنیں گے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے رہ نماؤں اور امریکی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے معاہدوں کو کامیاب بنانے کے لیے کام کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت مستحکم، محفوظ اور خوشحال مشرق وسطیٰ کے حصول کے لیے ان معاہدوں پر عملدر آمد جاری رکھے گی۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا تھا جس کے بعد بحرین، سوڈان اور آخر میں مراکش نے بھی اسرائیل سے امن معاہدے کیے تھے۔