.

انڈونیشیا:سکیورٹی فورسزکی فائرنگ سے داعش کا انتہائی مطلوب جنگجوہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا میں داعش سے وابستہ انتہائی مطلوب جنگجو ہفتے کے روز سیکورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیاہے۔

انڈونیشیا کے وسطی جزیرے سلویسی میں علاقائی فوجی سربراہ بریگیڈیئرجنرل فرید مکروف نے بتایا کہ علی کلورا فائرنگ میں ہلاک ہونے والے دوجنگجوؤں میں سے ایک تھا۔انھوں نے دوسرے مشتبہ جنگجو کی شناخت جاکا(ذکا) رمضان کےنام سےکی ہے۔

مکروف نے بتایا کہ ہفتہ کی رات سلویسی کے پہاڑی ضلع پریگی موتونگ میں فوج اور پولیس افسروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے چھاپامار کارروائی میں دونوں افراد کوجان لیوا گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔اس ضلع کی سرحدیں ضلع پوسو سے ملتی ہیں جو اس صوبہ میں انتہاپسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

بریگیڈئیر مکروف نے بتایاکہ علی کلورا نے 2014 میں داعش کی بیعت کی تھی۔وہ انتہا پسندجنگجو گروپ مشرقی انڈونیشیا مجاہدین نیٹ ورک (ایم آئی ٹی) کا لیڈر تھا اور ملک کو انتہائی مطلوب دہشت گرد تھا۔سیکورٹی فورسز اب اس گروپ کے باقی چارارکان کی تلاش میں ہیں۔

علی کلورا گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز سے گرفتار ہونے سے بچتا رہا تھا اور وہ متعدد کارروائیوں کےباوجود ان کے ہاتھ نہیں آیا تھا۔اس نے ابو وردہ سانتوسو کے مرنے کے بعد اس گروپ کی قیادت سنبھالی تھی۔ابووردہ کوانڈونیشیا کی سیکورٹی فورسز نے جولائی 2016 میں ہلاک کردیا تھا۔اس کے بعد سے اب تک اس گروپ کے درجنوں لیڈر اورارکان ہلاک یاگرفتار ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ جولائی 2021ء میں انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے داعش سے وابستہ دو جنگجوؤں کو ایک کارروائی میں ہلاک کردیا تھا۔ان دونوں جنگجوؤں پرشُبہ تھا کہ وہ جزیرہ سلویسی میں مسیحی کاشتکاروں کی ہلاکت کے واقعے میں ملوّث تھے۔ان کے خلاف بھی پہاڑی ضلع پریگی موتونگ میں کارروائی کی گئی تھی۔

انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے سلویسی میں حالیہ مہینوں کے دوران میں مشرقی انڈونیشیا مجاہدین نیٹ ورک کے ارکان کی گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں تیز کررکھی ہیں۔’مشرقی انڈونیشیا مجاہدین‘ نے حالیہ مہینوں میں متعدد پولیس اہلکاروں اورعیسائیوں کی ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

اس گروپ کے جنگجوؤں نے مئی میں ضلع پوسو میں واقع گاؤں کالماگو میں چارعیسائیوں کو قتل کردیا تھا اور ان میں سے ایک مقتول کا سرقلم کردیا تھا۔انڈونیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے یہ حملہ مارچ میں اپنے دو جنگجوؤں کی ہلاکت کا بدلہ چکانے کے لیے کیا تھا۔

یادرہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیامیں 2002ء میں سیاحتی جزیرے بالی پر بم دھماکوں میں 202 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد سے انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے سخت گیرجنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھاہوا ہے۔ان میں زیادہ ترغیرملکی جنگجو بتائے جاتے ہیں۔