.

بھارت:ریاستی انتخابات سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندرسنگھ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مشرق میں واقع بھارت کی شمال مغربی ریاست پنجاب کے وزیراعلیٰ ریٹائرڈکیپٹن امریندرسنگھ نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اس سے مارچ میں پنجاب میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس میں جاری بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔

اناسی سالہ امریندرسنگھ نے کانگریس کی مرکزی قیادت کی جانب سے پنجاب کے پارٹی رہ نماؤں کا آج اجلاس بلانے کے بعد ریاست کے گورنرکو اپنا استعفا پیش کردیا ہے۔

انھوں نے مستعفی ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس طرزعمل سے اپنی سبکی محسوس کرتا ہوں۔‘‘انھوں نے ریاست چلانے کی صلاحیت پر پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اٹھائے گئے شکوک وشبہات کا حوالہ دیا۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ریاست میں پارٹی کے نئے سربراہ کو قبول کریں گے؟اس کے جواب میں امریندر سنگھ نے کہا کہ ’’میں اپنے حامیوں سے اس ضمن میں بات کروں گااورپھراپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کروں گا۔‘‘انھوں نے کہا کہ ان کے سامنے تمام اختیارات(آپشنز) کھلے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریندرسنگھ کے استعفے سے علاقائی جماعتوں اور وزیراعظم نریندرمودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی دونوں کے آیندہ انتخابات میں کامیابی کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے۔مودی حکومت کو تین متنازع قوانین پر گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے کسانوں کے احتجاج کا سامنا ہے۔

کانگریس کو 2019ء میں منعقدہ قومی پارلیمانی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد وہ بھارت کی متعدد ریاستوں میں علاقائی اسمبلیوں کے انتخابات ہار چکی ہے۔وہ مودی حکومت کو قابل اعتماد چیلنج پیش کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ اسے کروناوائرس کی وَبا سے نمٹنے، کسانوں کے احتجاج اورخراب معیشت کی بنا پرکڑی تنقید کا سامنا کرناپڑا ہے۔