.

صنعاء: حوثیوں نے سزا کے نام پر 9 افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے تازہ ترین کارروائی میں آج ہفتے کے روز صنعاء میں 9 افراد کو سرِ عام گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا۔ ملیشیا نے مذکورہ افراد پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس کی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد کے قتل میں ملوث ہیں۔

سوشل میڈیا پر یمنیوں کے بیچ زیر گردش وڈیو کلپوں میں حوثی ملیشیا کے عناصر مذکورہ 9 افراد کے سروں میں گولیاں مارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جب کہ مقتولین زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔

حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا کے مطابق سرکاری استغاثہ نے الصماد کے قتل میں ملوث گروپ کے ارکان کے خلاف قصاص پر عمل کا حکم جاری کیا تھا۔ میڈیا نے واضح کیا کہ سزائے موت پر عمل درامد التحریر اسکوائر پر گولیاں مار کر ہوا۔ اس موقع پر حوثیوں کے متعدد سینئر رہ نما موجود تھے۔

اس سے پہلے یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا تھا کہ ایران نواز حوثی ملیشیا ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والی ہے۔ بالخصوص یہ کہ ان افراد میں 18 برس سے کم عمر کا ایک لڑکا بھی ہے۔

الاریانی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ان نو شہریوں کے خلاف جاری فیصلہ دانستہ طور پر قتل کا ایک مربوط جرم ہے۔ حوثی جو کچھ کر رہے ہیں اس کا مقصد سیاسی مخالفین کو ختم کرنا ہے۔ یہ موت کے گھاٹ اتارنے کے اُن جرائم سے ہر گز مختلف نہیں جن کا ارتکاب القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کر چکی ہیں۔