.

امریکی سیاحوں کو خلا کی سیر کرانے والا سپیس کیپسول زمین پر لوٹ آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ادارے ’’اسپیس ایکس‘‘ کا خلائی جہاز ریاست فلوریڈا سے چار عام مسافروں کو 15 ستمبر بروز بدھ کو لے کر خلا کے سفر پر روانہ تھا۔ اب اسپیس ایکس کی شٹل، جسے انسپیریشن فور کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے، سیاحت کے لیے خلا میں لے جائے گئے چاروں افراد کو لے کر واپس زمین پر پہنچ گئی ہے۔اس شٹل نے فلوریڈا میں لینڈ کیا ہے۔

ان سیاحوں نے تین روز تک زمینی مدار میں چکر لگایا۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی شٹل تھی، جس میں پرواز کرنے والے سبھی سیاح عام شہری تھے۔ اس طرح خلا میں سیاحت کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ اسپیس ایکس نے چند برس پہلے عام شہریوں کو سیاحت کے لیے خلا میں لے جانے کے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔

فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہونے والے اس گروہ کی قیادت امریکی فنانشل سروسز فرم کے ارب پتی مالک اور بانی جیرڈ آئزک مین کر رہے تھے۔ آئزک مین کے ہمراہ خلا میں جانے والوں میں 51 سالہ خاتون سائن پروکٹر، 29 سالہ خاتون ہیلی آرسنو اور 42 سالہ کرس سیمبروسکی شامل تھے۔

اسپیس ایکس کی یہ فلائٹ جیرڈ آئزک مین کی جانب سے ہی چارٹر کی گئی تھی جس کے لیے انھوں نے بھاری رقم ادا کی۔ لیکن یہ رقم کتنی ہے؟ اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

انسپیریشن فور کا خلائی جہاز بدھ کی صبح طلوعِ آفتاب سے قبل ان نو آموز خلابازوں کے ہمراہ اڑان بھرنے کے قریباً 10 منٹ بعد زمین کے مدار میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

خلائی جہاز جب زمین سے لگ بھگ 200 کلومیٹر کی بلندی پر پہنچا تو آئزک مین نے ایک بیان میں ان لوگوں کا شکریہ کا ادا کیا جنھوں نے انہیں اس سفر پر جانے میں مدد کی۔

آئزک مین نے بیان میں کہا کہ ’’میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے ہمیں اس دلچسپ اور غیر دریافت شدہ سرحد کی دہلیز پر پہنچایا جہاں اس سے پہلے صرف چند ہی لوگ پہنچ سکے ہیں لیکن بہت سارے لوگ آنے کو تیار ہیں۔‘‘

تفصیل کے مطابق صرف تین گھنٹوں کے سفر کے بعد خلائی جہاز اپنے مسافروں کو زمین سے 585 کلومیٹر کی اونچائی پر لے کر اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ یہ بلندی انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن اور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے بھی زیادہ ہے۔

اسپیس ایکس کے مطابق 1972 میں چاند پر بھیجے گئے ناسا کے اپالو مشن کے بعد پہلی مرتبہ کوئی بھی انسان اس قدر بلندی تک گیا ہے۔

اسی اونچائی پر مذکورہ خلائی جہاز نے زمین کے گرد ہر 90 منٹ میں ایک چکر مکمل کیا۔ خلائی جہاز کی رفتار قریباً 27 ہزار 360 کلومیٹر فی گھنٹا تھی جو آواز کی رفتار سے 22 گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔قریباً تین دن تک خلا میں رہنے کے بعد اسپیس ایکس زمین پر بخیریت لوٹ آیا۔