.

ایران کےنئے سخت گیر وزیرخارجہ جوہری سمجھوتے پرمذاکرات کے لیےامریکاجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نئے سخت گیروزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان پیر سے امریکا کا پہلا سرکاری دورہ کررہے ہیں جہاں وہ 2015 ء میں طے شدہ مگر اب متروک جوہری سمجھوتے میں شامل ممالک کے وزراء خارجہ سے بات چیت کریں گے لیکن وہ امریکی حکام سے ملاقات نہیں کریں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعیدخطیب زادہ نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نئے وزیرخارجہ حسین امیراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منگل سے شروع ہونے والے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے۔

وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ علاحدہ اور دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔تاہم خطیب زادہ نے کہا کہ ’’امریکی حکام سے ملاقات ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔‘‘

ایران اور امریکا کے درمیان 2015 ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات نئے ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے برسراقتدارآنے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔

مبصرین کاخیال ہے کہ ابراہیم رئیسی اپنی کابینہ میں سخت گیروں کو شامل کررہے ہیں تاکہ امریکا پر جوہری مذاکرات میں رعایت دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔نئے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان ایک سینیرسفارت کارہیں اوروہ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔انھیں جواد ظریف کی جگہ وزارت خارجہ کاقلم دان سونپا گیا ہے۔

صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے رشتہ دار سخت گیرسینئر سفارت کارعلی باقری کانی کو اعلیٰ جوہری مذاکرات کارمقررکیا ہے۔وہ عباس عراقچی کی جگہ لیں گے۔عراقچی سابق ایرانی صدر حسن روحانی کے دور میں چھے عالمی طاقتوں اور امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت کرتے رہے تھے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ایران کی جوہری سمجھوتے میں واپسی کا وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت واضح ہیں کہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت اورباہمی تعمیل کی طرف لوٹنے کی صلاحیت غیرمعینہ مدت کے لیے نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں یک طرفہ طور پراس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ صدرجو بائیڈن اس سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت چاہتے ہیں۔امریکی حکام اس مقصد کے لیے ایران سے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات بھی کرتے رہے ہیں لیکن ایران جوہری بم کے لیے درکارمواد کی افزودگی میں اضافہ کررہا ہے اور وہ جون سے ملتوی شدہ مذاکرات کی بحالی میں بھی پس وپیش سے کام لے رہا ہے۔