.

طالبان حکومت کے دو ادوار اور کابل کا سقوط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2001 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے باوجود ملک پر امریکی حملے کے بعد تحریک طالبان زیادہ کمزور نہیں ہوئی اور اس کی طرف سے وقتا فوقتا امریکی افواج پر حملے بھی کیے جاتے رہے۔

ایک سابقہ رپورٹ میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے افغانستان میں کمیونسٹ دور کے اختتام سے لے کر بن لادن کی آمد اور طالبان کے اقتدار پر قبضے، پھر اس کے خاتمے، امریکا کی کابل پر چڑھائی اور سنہ 2004ء میں حامد کرزئی کے عبوری صدر بننے تک کے مراحل کا تفصیلی احوال بیان کیا تھا۔

اشرف غنی

حامد کرزئی کی صدارت کے دوران نیٹو اور امریکا کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور ان پر بار بار بدعنوانی کا الزام لگایا گیا۔

سنہ 2014 میں ان کے پہلے مشیر اشرف غنی نے انہیں شکست دی اور آخر کار کرزئی کو عہدہ صدارت ان کے حوالے کرنا پڑا۔

سابق افغان صدر اشرف غنی
سابق افغان صدر اشرف غنی

جہاں تک اشرف غنی کی بات ہے انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد ورلڈ بینک چھوڑ کر مختلف نیوز نیٹ ورکس اور اخبارات میں کام کیا اور اسی سال دسمبر میں افغانستان واپس آئے۔

یکم فروری 2002 کو حامد کرزئی نے انہیں مشیر اول ، پھر وزیر خزانہ اور افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد کے رابطہ کے دفتر کا سربراہ منتخب کیا لیکن بعد میں انہوں نے حکومت سے استعفیٰ دے دیا اور کابل یونیورسٹی کے صدر بن گئے۔

سنہ 2014 کے صدارتی انتخابات تک اشرف غنی سیاسی منظر پر واپس نہیں آئے۔ سنہ دو ہزار چودہ کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے حصہ لیا اور 56.44 فی صد ووٹ حاصل کرکے جیت گئے۔ انہوں نے 2018 کا صدارتی الیکشن بھی جیت لیا۔

پڑوسیوں سے تعلقات میں بہتری

اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے آغاز کی تیاری کے لیے پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اسی سلسلے میں انہوں نے 14 دسمبر 2014 کو اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے ملاقات کی۔

افغانستان میں کئی دہشت گرد حملوں کے بعد کابل نے پاکستان کی طرف انگلی اٹھائی اور دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے اور تعلقات شدید کشیدہ ہوگئے۔

کابل نے 2018 میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے حملوں کے بعد پاکستان کو طالبان کی حمایت کا مرکز قرار دیا۔

معاہدہ اور طالبان جنگجوؤں کی رہائی

2018 میں افغان امن عمل کے آغاز کے بعد سے غنی حکومت نے ہمیشہ طالبان سے مذاکرات کو ’افغان-افغان‘ معاملہ قرار دینے پر زور دیا لیکن بیرونی دباؤ کی وجہ سے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے اشرف غنی نے طالبان کے5 ہزار قیدی رہا کیے۔

طالبان اور امریکا کےدرمیان ایک معاہدے کے بعد امریکا کا مقصد غیر ملکی افواج کو واپس بلانا اور 2019 میں افغانستان امن مشاورتی لویہ جرگہ قائم کرنا تھا۔

دوحہ میں امریکہ اور طالبان مذاکرات کا منظر
دوحہ میں امریکہ اور طالبان مذاکرات کا منظر

اس کے باوجود حکومتی افواج کے خلاف طالبان کے حملے نہیں رکے۔ آخرمیں اشرف غنی 15 اگست 2021 کو ملک چھوڑ گئے اور ان کی صدارت ختم ہو گئی ۔طالبان نے صرف 12 دنوں کی لڑائی میں کابل فتح کرلیا۔

کرپشن کے الزامات

اشرف غنی پر سابق طالبان رہ نماؤں کی سیاست میں واپسی کی مخالفت کا الزام لگایا گیا اور کئی غیر پشتون وزراء کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔

ان کی حکومت پر بدعنوانی اور ملک کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

دوبارہ طالبان کی حکومت

سنہ2001 میں طالبان کا تختہ الٹنے والے امریکی حملے کے بعد طالبان نے 2006 میں پے درپے افغان حکومتوں کے خلاف دوبارہ منظم اور مسلح کارروائی شروع کی۔ جنوبی افغانستان کے بڑے حصوں خصوصا قندھار اور ہلمند میں طالبان مضبوط ہو گئے۔

یکم مئی 2021ء کو جب امریکی صدر نے افغانستان سے فوج کے انخلا کا اعلان کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے طالبان کی طرف سے افغان فوج پرحملوں میں شدت آگئی۔ جیسے جیسے امریکی فوج کی واپسی کی تاریخ قریب آنے لگی طالبان کا زور بڑھتا گیا اور افغان حکومت طالبان جنگجوؤں کے سامنے ریت کی دیوارثابت ہونے لگی

اچانک پیش قدمی اور کابل کا زوال

تحریک طالبان اور امریکا کے درمیان دوحا معاہدے کے بعد افغانستان میں افغان فورسز پر حملوں میں اضافہ ہو گیا۔

ابتدائی مراحل میں طالبان دیہی علاقوں میں داخل ہوئے۔ان کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد 73 سے بڑھ کر 223 ہو گئی۔ 10 اگست تک ، طالبان پہلے ہی افغانستان کے 65 فیصد حصے پر قبضہ کر چکے تھے جہاں 6 سے 17 اگست تک طالبان نے34 میں سے 32 صوبوں پر قبضہ کرلیا تھا۔

15 اگست کو طالبان کابل پہنچے اور اقتدار کی منتقلی کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ افغان وزارت داخلہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ صدر اشرف غنی نے اقتدار سونپنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبریں آنے لگیں کہ طالبان اور اشرف غنی کےدرمیان عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات جاری رہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے بگرام ایئر بیس کو بھی طالبان کے حوالے کیا اور بیس میں تقریبا 5،000 ہزار طالبان اور داعش کے قیدی موجود تھے جنہیں رہا کردیا گیا۔

پنجشیر میں مزاحمت

کابل کے سقوط کے بعد سابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے 17 اگست 2021 کو پنجشیر وادی میں خود کو افغانستان کا عبوری صدر قرار دیا۔

شمالی اتحاد کے سابق اراکین اور دیگر طالبان مخالف قوتوں نے خود کو پنجشیر میں جمع کرنا شروع کر دیا۔ ان کی قیادت احمد مسعود اور سابق نائب صدر امر اللہ صالح کررہے تھے۔ اس کا مقصد تحریک طالبان کے خلاف مزاحمتی محاذ بنانا تھا۔

ایک صوتی پیغام میں احمد مسعود افغانستان پر طالبان کے کنڑول کا اعتراف کر رہے ہیں
ایک صوتی پیغام میں احمد مسعود افغانستان پر طالبان کے کنڑول کا اعتراف کر رہے ہیں

پھر پیر 6 ستمبر کو طالبان نے اعلان کیا کہ سلسلہ وار کوششوں کے بعد پنجشیر وادی پر ان کا مکمل کنٹرول قائم ہوچکا ہے مگر"قومی مزاحمتی محاذ" نے طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

طالبان کی نگران حکومت

طالبان نے اعلان کیا کہ وہ ملک میں ایک جامع حکومت تشکیل دیں گے مگر منگل 7 ستمبر کو طالبان کی طرف سے جو عبوری سیٹ اپ جاری کیا گیا اس میں صرف پشتونوں کو وزارتیں دی گئیں اور طالبان جامع اور شمولیتی حکومت کے اپنے وعدوں سے پھر گئے۔

عمر رسیدہ قیادت

طالبان نے جو عبوری حکومت قائم کی ہے اس کی قیادت 65 سالہ ملا محمد اخوند کو سونپی گئی ہے۔ طالبان کے ایک ذرائع کے مطابق نیا لیڈر بہت بوڑھا ہے اور شاید ان کے مطابق طالبان کا سب سے پرانا لیڈر ہے۔

محمد حسن آخوند
محمد حسن آخوند

تحریک کے بانی ملا عمر کے معاونین میں سے ایک ملا عمر آخوند نے 1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دور حکومت میں وزیر خارجہ اور پھر نائب وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔ وہ طالبان کی نئی حکومت میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم سوالیہ نشان

کابل پر قبضے کے بعد طالبان لیڈروں کی طرف سے آنے والے بیانات سے لگتا تھا کہ شاید طالبان ماضی کی طرح شدت پسندانہ پالیسی نہیں اپنائیں گے۔ خواتین کو کام اور بچیوں کو تعلیم کی اجازت دیں گے مگر ہفتے کے روز جب افغانستان میں اسکول کھلے تو پتا چلا کہ طالبان نے صرف بچوں کو اسکول آنے کی اجازت دی ہے۔

تحریک کے بیان میں لڑکیوں کا حوالہ نہ ملنے سے افغان عوام میں میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے طالبان پر کو خدشات تھے وہ کافی حد تک درست ثابت ہوئے ہیں۔