.

فرانسیسی آبدوزوں سے متعلق ہماری تشویش سنجیدہ اور گہری تھی: آسٹریلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے فرانسیسی آبدوزوں سے متعلق "سنجیدہ اور گہری تشویش" ظاہر کی ہے۔ اتوار کے روز ایک بیان میں انہوں نے اس تشویش کا اظہار امریکہ اور برطانیہ سے آبدوزیں خریدنے کے معاہدے کے تناظر میں ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب اس معاملے پر کثیر ملکی سفارتی بحران گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔

سڈنی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مورسن کا کہنا تھا کہ "انہیں پوری طرح علم ہونا چاہئے کہ ہماری تشویش سنجیدہ اور گہری نوعیت کی ہے۔" اے ٹی اے سی نوعیت کی آبدوزوں کی صلاحیت ہمارے تزویراتی مقاصد سے اہم آہنگ نہیں ہے۔ ہم نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اپنے قومی مفاد کی روشنی میں اقدام اٹھائیں گے۔‘‘

مورسن کے بقول فرانسیسی حکومت میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے، مجھے ان کی مایوسی کا اندازہ ہے۔ ’’کسی بھی آزاد ملک کی طرح آسٹریلیا ہمیشہ وہی فیصلے کرے گا جو اس کے قومی دفاع کے حق میں بہتر ہوں گے۔‘‘

مورسن کے بیان سے کچھ دیر پہلے آسٹریلوی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ آسٹریلیا نے فرانس کو ’’کھلے طور پر ایمانداری اور صافی گوئی‘‘ سے فرانسیسی آبدوزوں کی خریداری سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا تھا۔

آسٹریلیا نے فرانس کے نیول گروپ کے ساتھ روایتی آبدوزیں تیار کرنے کا معاہدہ 2016 میں ختم کر دیا تھا۔ جمعرات کے روز آسٹریلیا نے اعلان کیا کہ "وہ سہہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت آٹھ جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں تیار کرے گا جن میں امریکی اور برطانوی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔"

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ نے آسٹریلیا اور امریکہ کے نئے دفاعی معاہدے پر تنقید کی ہے، جس کی وجہ سے فرانس نے ان ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ ایک انٹرویو میں یان ویس لی ڈرین نے ان ممالک پر الزام لگایا کہ ان کے ’دوہرے پن نے اعتماد توڑا ہے۔‘

آکوس دفاعی معاہدے کے ذریعے امریکہ آسٹریلیا کو جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ اس اقدام سے فرانس کا آسٹریلیا کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدے ناکام ہوا ہے۔

آکوس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ خیال ہے کہ اس دفاعی معاہدے کے ذریعے متنازع جنوبی بحیرہ چین (ساؤتھ چائنہ سی) میں چینی اثر و رسوخ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

گذشتہ ہفتے کے دوران فرانس کو عوامی اعلان سے کچھ ہی گھنٹے قبل اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔ سنیچر کو فرانسیسی وزیر خارجہ لی ڈرین نے اسے اتحادیوں کے مابین ’سنجیدہ بحران‘ کا نام دیا۔

انھوں نے فرانس ٹو چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ امریکہ اور فرانس کے تعلقات کی تاریخ میں پہلی بار ہم اپنے سیفر کو واپس بلا رہے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ سیاسی اقدام ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان بحران کی شدت کو عیاں کرتا ہے۔‘

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کے ’جھوٹ‘ سے امریکہ اور آسٹریلیا نے اعتماد توڑا ہے ان کا کہنا تھا کہ سفیروں کو واپس بلانے کا مقصد ’صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینا ہے۔‘ مگر ان کا کہنا تھا کہ فرانس کو برطانیہ سے اپنا سفیر واپس بلانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے بارہا برطانیہ پر ’مسلسل موقع پرستی‘ کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس معاہدے میں برطانیہ تیسرے پہیے کی طرح ہے۔‘

دوسری طرف برطانیہ کی نئی وزیر خارجہ لیز ٹرس نے اخبار دی سنڈے ٹیلی گراف میں لکھے ایک مضمون میں اس معاہدے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ برطانیہ کی جانب سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس کی بھرپور تیاری دکھاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے انڈو پیسیفک خطے میں استحکام کے لیے برطانیہ کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ’آزادی کا تحفظ ضرورت ہے۔ اس لیے ہم دنیا بھر میں مضبوط دفاعی تعلقات بنا رہے ہیں۔‘

انپوں نے مزید کہا کہ اس کے ذریعے برطانیہ اپنے جیسے خیالات والے ممالک سے اتحاد قائم کر رہا ہے اور یہ مشترکہ اقدار اور مفادات کی بنیاد پر بنائے جا رہے ہیں۔

اس معاہدے کا مطلب ہے کہ آسٹریلیا جوہری ایندھن والی آبدوز رکھنے والا ساتواں ملک بن جائے گا۔ اس کے ذریعے اتحادی سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور زیر سمندر ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کریں گے۔

اس دفاعی معاہدے سے آسٹریلیا اور فرانس کے درمیان ایک اہم معاہدہ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ سنہ 2016 میں فرانس نے آسٹریلیا کے ساتھ 12 روایتی آبدوز بنانے کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔