.
افغانستان وطالبان

داعش بم حملوں کے باوجود طالبان کے لیے خطرہ نہیں،مکوٹھپا جاسکتا ہے:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان افغانستان میں داعش کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتے اور گروپ اس تنظیم کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ بات طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوموار کو داعش کے حالیہ بم حملوں کے ردعمل میں کہی ہے۔داعش نے ہفتے اور اتوار کو طالبان پر متعدد بم حملے کیے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ’’داعش کوئی خطرہ نہیں ہیں کیونکہ یہ عوام میں ایک نفرت آمیزنظریہ ہے۔کوئی افغان ان کی حمایت نہیں کرتا۔‘‘ افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ’’ ماضی میں داعش کے خلاف ہماری کوششیں بہت مؤثررہی ہیں اور ہمارے پاس انھیں ناکام بنانے کے لیے اچھی حکمت عملی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دوروز میں ہونے والے تازہ حملوں میں ملوّث ہونے کے شُبے میں دو گروپوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انتہاپسند جنگجو گروپ داعش نے اتوار کو ایک بیان میں افغانستان میں حالیہ پے درپے بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ان حملوں میں طالبان یا ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔داعش نے کہا کہ ہفتے اوراتوار کے روز متعدد بم دھماکوں میں طالبان ملیشیا کے 35 ارکان ہلاک یا زخمی ہوئےہیں۔

داعش نے صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد شہر میں دھماکوں میں طالبان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا۔طلوع نیوزکے مطابق کابل میں دھماکے میں دوافراد زخمی ہوئے تھےاور ننگرہار میں دو دھماکوں میں قریباً 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

15اگست کوطالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے مغرب نے جنگ زدہ ملک کے دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بننے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ طالبان نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکزنہیں بننے دیں گے لیکن عالمی برادری اس کے باوجود اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کررہی ہے۔

داعش نے 26 اگست کوکابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تباہ کن بم حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔31 اگست کو افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے قبل اس واقعے میں 13 امریکی فوجیوں کے علاوہ 100 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوگئے تھے۔