.

دبئی ایکسپو2020ء کی افتتاحی تقریب میں کون سے عالمی ستارے اپنے فن کا جادوجگائیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ کلاسیکی موسیقاروں سے لے کر صفِ اول کے پاپ اسٹارز تک، دبئی ایکسپو 2020 ء کے افتتاح کے موقع پراپنے فن کا جادو جگائیں گے۔اس عظیم الشان شو کی افتتاحی تقریب میں دنیا بھر سے کئی ایک نامورعالمی ستاروں کی شرکت متوقع ہے۔

مشہور اطالوی فن کار آنڈریا بوسیلی کی قیادت میں 30 ستمبر کودبئی کے مشہورالوصل پلازا میں یہ تمام فن کار اپنی صف بندی کریں گے۔بوسیلی کے دنیا بھر میں نوکروڑ سے زیادہ ریکارڈ فروخت ہوچکے ہیں۔ان کے ساتھ عالمی ستاروں کا ایک جھرمٹ ہوگا۔ان میں برطانوی پاپ اسٹار ایلی گولڈنگ، بین الاقوامی شہرت یافتہ چینی پیانو نواز لینگ لینگ، چار بار گرامی جیتنے والی افریقہ گلوکارہ اینجلیک کدجو اور گولڈن گلوب جیتنے والی اداکارہ، گلوکارہ اور نغمہ نگار آندرا ڈے شامل ہوں گی۔

افتتاحی تقریب میں خطے کے تخلیقی تنوع اور صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا جائے گا۔دبئی ایکسپو 2020ء کے سفیراور خلیج میں موسیقی کے منظرنامے پرایک رجحان ساز فن کار کے طور پرابھرنے والے حسین الجاسمی،امارات کی مقبول فن کارہ احلام الشمسی،متحدہ عرب امارات کی ابھرتی ہوئی نوعمرگلوکارہ الماس،عرب فنکار محمد عبدہ اور گرامی ایوارڈ کے لیے نامزد لبنانی نژاد امریکی گلوکارہ میسا کارا اپنے فن کا مظاہرہ گی۔

تفریح، مناظر، موسیقی

دبئی ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں تماشائی حیرت انگیز مناظر، موسیقی اور فن کاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہوں گے کیونکہ دنیا بھر کے تخلیقی ذہن، بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکار اورابھرتی ہوئی صلاحیتوں کے حامل فن کار تفریح کے اس ناقابل فراموش مظاہرے میں اکٹھے ہوں گے۔افتتاحی تقریب کو دنیا بھر کے سامعین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

افتتاحی تقریب میں مختلف جغرافیے، صنعتوں اور پس منظر کے حامل ٹیلنٹ کو اکٹھا کیا جارہا ہے۔ سرک دوسولیل اور لا پرل جیسی شہرہ آفاق پروڈکشنز کے تخلیقی ڈائریکٹر فرانکو ڈریگون نے فائیوکرنٹس کے صدراور سی ای او سکاٹ گیونز مشترکہ طور پر دبئی ایکسپو کی افتتاحی تقریب کوچارچاند لگا رہے ہیں۔یہ دونوں اولمپک تقریبات کے علاوہ دنیا بھر میں نئے سال کے موقع پرناقابل یقین تقریبات میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے مظاہرے کرچکے ہیں اور وہ بہت سے براہ راست پروگراموں کے ایوارڈ یافتہ تخلیق کارہیں۔

People walk past the official sign marking the Dubai Expo 2020 near the Sustainability Pavilion in Dubai on January 16, 2021. (AFP)
People walk past the official sign marking the Dubai Expo 2020 near the Sustainability Pavilion in Dubai on January 16, 2021. (AFP)

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی دبئی ایکسپو 2020ء دنیا کا سب سے بڑا ثقافتی اجتماع ثابت ہوگی۔اس میں روزانہ 60 سے زیادہ براہ راست تقریبات ہوں گی ان میں مسلسل 182روز تک سیکڑوں ثقافتوں اور پکوانوں کے تجربات پیش کیے جائیں گے۔ان میں دنیا کی مختلف رنگا رنگ ثقافتوں کو اجاگر کیا جائے گا۔

ایکسپو میں آنے والے تمام ملکی اور بین الاقوامی شرکاء، عملہ، رضاکاروں، ٹھیکے داروں اور خدمات مہیا کرنے والوں کو کرونا وائرس کی منظورشدہ کوئی ایک ویکسین لگوانا ہوگی۔ستمبر2021 تک متحدہ عرب امارات نے ویکسین کی قریباً ایک کروڑ 90 لاکھ خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔اس طرح امارات کی 80 فی صد آبادی کو مکمل ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

اس عالمی نمائش کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کوکووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کا ثبوت فراہم کرناہوگا یا پی سی آرٹیسٹ کی منفی رپورٹ دکھانے کی صورت ہی میں انھیں دبئی ایکسپو 2020ء میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

منتظمین کے مطابق نمائش گاہ میں آنے سے 72 گھنٹے قبل کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کا منفی نتیجہ کارآمد ہوگا۔اس کے علاوہ نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے افراد کو چہرے پر ماسک پہننا ہوگا اور سماجی فاصلے کے قواعد وضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔

ویکسین نہ لگوانے والے زائرین دبئی ایکسپو کی جگہ سے متصل لیبارٹری میں بھی پی سی آر ٹیسٹ کراسکیں گے۔امارت دبئی کے دوسرے علاقوں میں بھی ٹیسٹ مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات ایکسپو2020 کی ویب گاہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ نمائش 2020ء کے کارآمدٹکٹ یا داخلے کے پاس کے حامل افراد سے دبئی میں واقع ان مراکز میں پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات میں آیندہ چھے ماہ کے دوران میں توقع ہے کہ ڈھائی کروڑ سیاح اور زائرین اس عالمی نمائش کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔کووِڈ-19 کی وبا کے بعد دنیا میں یہ پہلا بڑاثقافتی اجتماع ہوگا۔کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے منتظمین کواس عالمی نمائش کو ایک سال کے لیے مؤخر کرنا پڑا ہے۔پہلے یہ نمائش 2020ء میں منعقد ہونا تھی۔

دبئی ایکسپو میں 200 سے زیادہ ادارے اپنے متاثرکن تجربات کا تبادلہ کریں گے۔نمائش میں دنیا کے بیشتر ممالک کے پویلین ہوں گے جہاں وہ اپنی ساختہ مصنوعات اور رنگارنگ ثقافت کو پیش کریں گے۔ان کے علاوہ کثیر جہت تنظیمیں، کمپنیاں اور تعلیمی ادارے بھی اس نمائش میں شرکت کررہے ہیں۔