.

سعودی عرب کاایران کے جوہری پروگرام میں عدم شفافیت پراظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے(آئی اے ای اے) کے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام میں شفافیت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) سے متعلق معاہدے کی پاسداری کرنے والے دنیا بھر کے ممالک کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

این پی ٹی ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں اوران کی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کوروکنا، جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں جوہری تخفیف اسلحہ کے مقصد کا حصول ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ ’’مشرقِ اوسط میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کی ضرورت ہے جبکہ سعودی عرب جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے بارے میں اپنی پالیسی پرکاربند ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق آئی اے ای اے کے کردارکی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں یک طرفہ طور پرایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

صدرجو بائیڈن اس سمجھوتے میں امریکا کی دوبارہ شمولیت چاہتے ہیں۔امریکی حکام اس مقصد کے لیے ایران سے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات بھی کرتے رہے ہیں لیکن ایران جوہری بم کے لیے درکارمواد کی افزودگی میں اضافہ کررہا ہے اور وہ جون سے ملتوی شدہ مذاکرات کی بحالی میں بھی پس وپیش سے کام لے رہا ہے۔

ایرانی حکام نے جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق ویانا میں اپریل سے جون تک امریکا کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کی تھی لیکن جون میں سخت گیرابراہیم رئیسی کے صدر ایران منتخب ہونے کے بعد سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔