.

’آبدوز بحران‘ فرانس نے برطانیہ کے ساتھ دفاعی اجلاس منسوخ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ فرانس کے وزیر دفاع فلورنس پارلے اور ان کے برطانوی ہم منصب کے درمیان طے پائی ملاقات منسوخ ہو گئی ہے۔ یہ ملاقات رواں ہفتے ہونے والی تھی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا نے پیرس سے آبدوزوں کی ڈیل منسوخ کرنے کے بعد واشنگٹن اور لندن کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔

دونوں ذرائع نے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی ایک سابقہ رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی اور برطانوی وزرا دفاع کی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔

فرانس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے فرانس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری جس میں کینبرا کو امریکی آبدوزوں کی فراہمی شامل ہے پر پیرس کے غصے کے باوجود فرانس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

برٹش پریس ایسوسی ایشن کے مطابق بورس جانسن نے نیو یارک کے سفر کے دوران ہوائی جہاز میں صحافیوں کو بتایا کہ لندن اور پیرس کا رشتہ "بہت دوستانہ" اور "بہت اہم" رشتہ ہے۔ فرانس کو برطانیہ سے اٹوٹ محبت ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی حکومت کے ترجمان گیبریل اتل نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے فرانس آسٹریلیا آبدوز ڈیل کی منسوخی کے بعد اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں سے بات کرنے کے لیے کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے چند دنوں کے اندر فرانسیسی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات کریں گے۔

کینبرا کے فیصلے کے جواب میں جمعہ کے روز فرانس نے امریکا اور آسٹریلیا سے اپنے سفیر واپس بلالیا تھا۔ ترجمان نے ’بی ایم ایف‘ ٹی وی کو بتایا کہ ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں کیونکہ اس سے اعتماد کوشدید ٹھیس پہنچا ہے۔ ان کا اشارہ فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان آبدوزوں کے معاہدے کی منسوخی کی طرف تھا۔

ہفتے کے روز فرانس نے آسٹریلیا اور امریکا پر "جھوٹ اور دوغلے پن" کا الزام لگایا تھا جبکہ برطانیہ نےآبدوزوں کا معاہدہ منسوخ ہونے پر برہمی پر تنقید کرتے ہوئے پیرس کو "موقع پرست" قراردیا تھا۔

جمعہ کے روز فرانسیسی صدر میکروں نے کینبرا اور واشنگٹن میں اپنے ملک کے سفیروں کو واپس بلانے کا حکم دیا تھا۔