.

امریکا افغان جنگ کے بعد’انتھک سفارت کاری کے دور‘کا آغازکررہا ہے: جوبائیڈن

امریکاوقتِ ضرورت طاقت کے استعمال کے لیے تیاررہے گا لیکن فوجی قوت آخری حربہ ہونا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدرجو بائیڈن نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایاکہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا’’انتھک سفارت کاری کےایک نئے دورکا آغاز‘‘کر رہا ہے۔

صدربائیڈن نے جنرل اسمبلی کے 76ویں سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ’’امریکا’وقتِ ضرورت طاقت کے استعمال کے لیے تیاررہے گا لیکن فوجی طاقت کو پہلا نہیں بلکہ’آخری حربے کا آلہ‘ہونا چاہیے۔‘‘

انھوں نے مزیدکہا کہ ’’یہ مشن واضح اور قابل حصول ہونا چاہیے جو امریکی عوام کی باخبررضامندی کے ساتھ اور جب بھی ممکن ہو، ہمارے اتحادیوں کے اشتراک سے شروع کیا جائے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’فوجی طاقت کودنیا میں درپیش ہرمسئلے کے ایک حل کے طورپراستعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

جنرل اسمبلی کے اس سالانہ اجلاس میں شریک عالمی لیڈروں میں امریکی صدر جو بائیڈن نے سب سے پہلے تقریر کی ہے۔انھوں نے ابھرتے ہوئے مطلق العنان چین کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑاچیلنج قرار دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نےمختلف عالمی موضوعات پر اظاہر خیال کیا ہے۔انھوں نے اعلان کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر ترقی پذیرممالک کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیےامریکا کی جانب سے مالی معاونت کو دُگنا کردیں گے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دارکے بہ قول صدر بائیڈن نے اپریل میں وعدہ کیا تھا کہ امریکا عالمی ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیےاپنا مالی تعاون بڑھا کر5ارب 70 کروڑ ڈالرسالانہ کردے گا۔اب ان کے نئے اعلان کے بعد یہ خطیر رقم11ارب 40 کروڑ ڈالرسالانہ ہوجائے گی۔

بائیڈن نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ’’اپریل میں، میں نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں ترقی پذیرممالک کی مدد کے لیے اپنی عوامی بین الاقوامی مالی معاونت کودُگنا کردے گا اورآج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخرمحسوس ہورہا ہے کہ ہم کانگریس کے ساتھ مل کراس رقم کودُگنا کرنے کے لیے کام کریں گے۔‘‘