.

امریکا اورچین مذاکرات کریں،تقسیم سے نقصان پہنچے گا:یواین سیکریٹری جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں۔انھوں نے دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے بارے میں خبردارکیا ہے۔

گوٹیرس منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تقریرکررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’مجھے خدشہ ہے،ہماری دنیا اقتصادی، تجارتی، مالیاتی اور ٹیکنالوجی کےقواعد کے دو مختلف سیٹوں، مصنوعی ذہانت کی ترقی میں دو مختلف طریقوں اور آخرکاردو مختلف فوجی اور جغرافیائی سیاسی حکمتِ عملیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘‘

انھوں نے کہاکہ ’’یہ اتھل پتھل اور پریشانی کا ایک نسخہ ہے۔اس کے بارے میں سردجنگ کے مقابلے میں بہت کم پیشین گوئی کی جاسکے گی۔ہمیں اعتماد کی بحالی اورامید پیدا کرنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینےکی ضرورت ہے۔ہمیں بات چیت اور مکالمے کی ضرورت ہے۔ ہمیں (معاملات کو)سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

گوٹیرس نے کہا کہ دونوں طاقتوں(امریکا اور چین) کے درمیان تقسیم نے بغاوتوں کو فرو کرنے سمیت دیگراہم ترجیحات پرکوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال فروری میں میانماراور گنی دونوں میں مسلح افواج نے اقتدار پرقبضہ کر لیا تھا اور اگست میں افغانستان میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کی جگہ طالبان اقتدار پر قابض ہوگئے ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی کوششوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ فوجی بغاوتیں لوٹ آئی ہیں۔اس صورت حال میں عالمی برادری کے درمیان اتحاد میں کمی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ جغرافیائی، سیاسی تقسیم بین الاقوامی تعاون کو نقصان پہنچارہی ہے اور اس سے سلامتی کونسل کی ضروری فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی محدود ترہورہی ہے۔‘‘

جنرل اسمبلی کے اس سالانہ اجلاس میں عالمی لیڈروں میں امریکی صدر جو بائیڈن نے سب سے پہلے تقریر کی ہے۔انھوں نے ابھرتے ہوئے مطلق العنان چین کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑاچیلنج قرار دیا ہے۔

چینی صدر شی جین پنگ بھی اقوام متحدہ کے اس سالانہ اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں لیکن کووِڈ کی پابندیوں کی وجہ سے وہ ویڈیولنک کے ذریعے عالمی لیڈروں سے مخاطب ہوں گے۔