.

انخلا کے وقت کابل میں ’غلطی سے‘ کیے گئے ڈرون حملے کا جائزہ لینے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے گذشتہ ماہ 29 اگست کو کابل میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افغان شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ پینٹاگان نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اس حملے میں داعش کا ایک جنگجو ہلاک ہوا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق لائیڈ آسٹن اس بات پر غور کرنا چاہتے ہیں کہ کیا کسی فوجی تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے پیر کو بتایا کہ آسٹن نے امریکی فضائیہ کو کہا کہ وہ سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے تھری یا فور سٹار رینک کے عہدے کا ایک افسر مقرر کرے، جو اس سانحے کی طرف جانے والے واقعات کی تاریخ کا تفصیلی جائزہ لے۔

اہم نتائج یہ تھے کہ اس ڈرون حملے میں صرف افغان شہری مارے گئے تھے اور یہ کہ امریکی فوج کو یہ سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی کہ وہ سفید ٹویوٹا کرولا جسے انہوں نے گھنٹوں تک ٹریک کیا اور پھر ہیل فائر میزائل کا نشانہ بنایا، واقعی کوئی خطرہ تھا۔

اس کارروائی کے بارے میں فوج کے ابتدائی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان تضادات تیزی سے سامنے آئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر ذرائع ابلاغ کی تنظیموں نے اطلاع دی تھی کہ ٹارگٹ کی گئی گاڑی کا ڈرائیور امریکہ کی ایک انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم میں کافی عرصے سے ملازم تھا۔

پینٹاگان کے اس دعوے کے باوجود کہ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا، کسی دوسرے بڑے دھماکے کے آثار نہیں ملے۔

29 اگست کو کابل میں کیے جانے والے امریکی ڈرون حملہ
29 اگست کو کابل میں کیے جانے والے امریکی ڈرون حملہ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میک کینزی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ ان کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ڈرون کے ذریعے نشانہ بنائی گئی گاڑی کو ابتدائی طور پر کابل میں داعش کے ایک کمپاؤنڈ میں دیکھا گیا تھا اور اسے امریکی انٹیلی جنس نے آٹھ گھنٹے تک ٹریک کیا تھا۔ میک کینزی نے کہا کہ گاڑی کے بارے میں انٹیلی جنس افسوس ناک طور پر غلط نکلی۔

امریکی فوج نے ابتدائی طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ گاڑی میں کم از کم داعش کا ایک جنگجو مارا گیا ہے، لیکن میک کینزی کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس واقعے میں صرف معصوم شہری مارے گئے۔ میکنزی نے غلطی قبول کرتے ہوئے معافی مانگی۔

انہوں نے پینٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا: ’یہ خاص کارروائی یقینی طور پر ایک خوفناک غلطی تھی اور ہمیں اس پر افسوس ہے، اور میں بہت واضح ہوں کہ ہم اس کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں۔‘

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعے کو نظرثانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک تحریری بیان میں کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سینٹرل کمانڈ نے غلط حملے کے بارے میں ’تمام دستیاب سیاق و سباق‘ پر غور کیا ہے اور یہ کہ مکمل احتساب پر غور کیا جائے۔

مذکورہ حملے کے از سر نو جائزے کا فیصلہ امریکی فوج کے کابل سے انخلا کے آخری گھنٹوں میں کی گئی غلطیوں کی سنجیدگی سے عکاسی کرتا ہے، جس میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افغانوں، امریکیوں اور دیگر کا انخلا شامل تھا۔

یہ انخلا داعش سے منسلک تنظیم داعش خراسان کی جانب سے حملوں کے خطرے کے تحت کیا گیا تھا، جس نے امریکی ڈرون حملے سے تین دن قبل کابل ایئرپورٹ کے باہر ایک مہلک خودکش بم دھماکہ کیا تھا۔

جان کربی نے کہا کہ امریکی فضائیہ کے اس جائزے میں سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات کا مکمل مطالعہ کرکے سفارش کی جائے گی کہ کیا اس میں ملوث کسی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

کربی نے کہا: ’اگر احتساب ہونا ہے تو کس کا اور کس طرح سے، اس کے بارے میں فیصلے الگ الگ ہوں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ جائزہ لینے والے افسر کی تقرری کے 45 دن کے اندر جائزہ مکمل کیا جانا ہے۔