.
افغانستان وطالبان

طالبان کی عبوری کابینہ میں نائب وزراء کا تقرر، خواتین کی نمائندگی ندارد

بین الاقوامی تنقید کے باوجود خواتین کو حکومت کا حصہ بنانے سے گریز کی پالیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان نے اپنی عبوری کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے نائب وزراء کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فہرست میں بھی کسی ایک خاتون کا نام شامل نہیں۔

طالبان نے اپنی کابینہ کے نائب وزراء کے ناموں کا بھی اعلان کر دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود طالبان کے ارباب اختیار کی فہرست میں صرف اور صرف مرد شامل ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح انتہا پسند طالبان اپنے سخت گیر موقف کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ نائب وزراء کے ناموں کے اعلان کے ساتھ طالبان نے مردوں کی اجارہ داری کو دوگنا کر دیا ہے۔

حاجی گل محمد نائب وزیرسرحدی امور اور انجنیئر نجیب اللہ وزیربرائے ایٹمی توانائی ہوں گے۔ ڈاکٹر لطف اللہ خیر خواہ کو وزارت اعلیٰ تعلیم کا معاو ن مقرر کیا گیا ہے۔ حاجی غلام غوث قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے نائب سربراہ ہوں گے۔

عبوری کابینہ میں پنج شیر کے تاجر حاجی نورالدین عزیزی کو وزیر تجارت مقرر کر دیا گیا۔ افغان آن لائن پورٹل کے مطابق طالبان کی نئی حکومت میں تاجروں کو خصوصی طور پر کابینہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بغلان کے تاجر حاجی محمد بشیر کو نائب وزیر تجارت جبکہ سرپل کے تاجر حاجی محمد عظیم سلطان زادہ کو نائب وزیر تجارت دوئم تعینات کیا گیا ہے۔

فیصلے کا دفاع

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی حکومت کی جانب سے کابینہ میں تازہ توسیع کا دفاع کیا ہے۔ منگل کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ میں اقلیتی نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جیسا کہ ہزارہ اقلیتی گروپ کے اراکین کو۔ ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو غالباً بعد میں کابینہ میں شامل کیا جا سکے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرے۔ مجاہد کا کہنا تھا،'' اقوام متحدہ، یورپی ممالک، ایشیائی اور اسلامی ملکوں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری حکومت کو تسلیم کریں اور ہمارے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں۔ اس فیصلے کو روکے رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘

طالبان نے اپنی موجودہ کابینہ کو عبوری طور پر تشکیل دیا ہے ساتھ ہی یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ لیکن ان کی طرف سے اب تک یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آیا ان کے ملک میں کبھی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔امریکا نے طالبان کے رویے کی تعریف کی

ذبیح اللہ مجاہد سے جب لڑکیوں اور خواتین پر حالیہ پابندیوں کے تناظر میں پوچھا گیا کہ فی الحال چھٹی سے بارہویں جماعت تک کی بچیوں کو اسکول نہ جانے دینے کے فیصلے کے پیچھے کون سے عناصر کار فرما ہیں تو ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ یہ ایک عارضی فیصلہ ہے اور جلد ہی یہ اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ لڑکیاں کب سے اسکول جا سکیں گی۔‘‘ لڑکیوں کو جلد اسکول جانے کی اجازت کے امکانات کا مجاہد نے ذکر تو کیا مگر کوئی ٹھوس بات یا وضاحت پیش نہیں کی۔

یاد رہے کہ جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے لڑکوں نے گذشتہ اختتام ہفتہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔