طالبان کا بلدیہ کابل کے خواتین عملے کو گھر بیٹھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان تحریک نے ملک کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ تعلیم اور کام کے شعبوں میں شریعت کی تعلیمات کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرے گی، تاہم زمینی حقائق اور اعداد وشمار اس کے برعکس تصویر دکھا رہے ہیں۔

اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں دارالحکومت کابل کی بلدیہ کے عبوری سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکام نے مذکورہ بلدیہ کی کئی خواتین ملازمین کی برطرفی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

بلدیہ کے سربراہ حمد اللہ نعمونی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ صرف اُن خواتین کو کام پر آنے کی اجازت دی جائے گی جن کا مرد مبتادل میسر نہیں۔ ان میں ڈیزائننگ اینڈ انجینرنگ کے شعبے کی ماہر خواتین کے علاوہ عورتوں کے لیے پبلک بیت الخلا کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین شامل ہیں۔

نعمونی نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتظامیہ کی ان خواتین اہل کاروں کے حوالے سے "حتمی" فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

طالبان تحریک کے ان اقدامات نے اس کے پہلے دور حکومت کے سخت گیر فیصلوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس دور میں طالبان نے لڑکیوں اور خواتین کو اسکول جانے اور کام کرنے سے روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ملک کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے سے قبل بلدیہ کے کُل ملازمین میں خواتین کا تناسب ایک تہائی سے کچھ کم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں