.

’میں سلواڈور کا ’ڈکٹیٹر ہوں‘،فلسطینی نژاد صدر نجیب بوکیلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ال سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدر نجیب بوکیلی نے ایک ایسی بات کہہ دی جو ان سے قبل اس ملک کے کسی دوسرے سربراہ مملکت نے نہیں کی۔ انہوں نے ’ٹویٹر‘ سمیت سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس میں اپنی شناخت کو "ابو لیلی" سے تبدیل کیا۔ لیلیٰ ان کی بیٹی ہے جو دو سال قبل اس دنیا میں آئی۔ اس تصویر کے نیچے انہوں نے اپنی نئی تعریف اور شناخت’ Dictador de El Salvador‘’سلواڈر کے ڈکٹیٹر‘ کے طورپر کی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بوکیلی نے ٹویٹر پر "استبدادی" کا عنوان استعمال کیا ہے۔ یہ محض ایک مذاق ہے۔ گذشتہ جنوری میں انہوں نے برطانوی کامیڈین ساشا بارون کوھین کی فلم "دی ڈکٹیٹر" کے مرکزی کردار ایڈمرل حافظ علاءالدین کی تصویر استعمال کی تھی۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی شناخت کے لیے ’ڈکٹیٹر‘کا ناپسندیدہ استعارہ چنا ہے۔

چالیس سالہ بوکیلی کافی عرصے سے مخالف سیاسی حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ الفاظ دراصل ان کی طرف سے ناقدین کے حملوں کا ایک طنزیہ جواب ہے۔ سلواڈورمیں فلسطینی نژاد صدر پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ من مانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف ٹویٹر پر #BukeleDictador ٹرینڈ کررہا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے سلواڈور کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ صدر بوکیلی کی طرف سے انتخابی قوانین میں اصلاحات پر صدر کو تنقید کا سامنا ہے۔ دستور میں ترامیم کے بعد وہ 2024 میں تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑ سکیں گے۔

پچھلے ہفتے صدر نجیب بوکیلی نے ایک تہائی ججوں کو ریٹائر کرنے کا حکم جاری کیا۔ انہوں نے ایسا کرکے یہ تاثردیا ہے کہ وہ اسی طرح کا اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ ان کے اس اقدام کے بعد اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ اپوزیشن نے اسے عدلیہ کے خلاف "بغاوت" قراردیا۔