.

آسٹریلیا سے آبدوزمعاہدہ ختم ہونے پرفرانس اب غصہ تھوک دے: بورس جانسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان آبدوزوں کے حالیہ معاہدے کے ردعمل میں فرانس کے غیظ وغضب پربظاہرصدرعمانوایل ماکرون کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے ایک فرانسیسی قول نقل کیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ’’اب مجھے وقفہ دیں‘‘۔نیز ان سے کہا ہے کہ ’’وہ اب غصہ تھوک دیں۔‘‘

امریکی صدرجو بائیڈن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوایل ماکروں کے درمیان فون کال سے چند گھنٹے قبل برطانوی وزیراعظم نے فرانس سے کہا ہے کہ اب اس کے لیے آگے بڑھنے کاوقت آگیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میں یہ سمجھتا ہوں،اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے کچھ پیارے دوست غصہ ختم کردیں اور اب وقفہ کریں کیونکہ یہ بنیادی طورپرعالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا اقدام ہے۔‘‘

جانسن نے مزید کہا:’’اس (معاہدے) کے ذریعے کسی کو کندھا دینے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر یہ چین کے خلاف نہیں ہے۔‘‘

امریکا اوربرطانیہ نے 15ستمبر کوآسٹریلیا کے ساتھ ایک نئے ’ہند بحرالکاہل سکیورٹی اتحاد‘ کا اعلان کیا تھا۔اس ڈیل کے تحت آسٹریلیا کو جوہری طاقت سے لیس آبدوزیں مہیا کی جائیں گی۔اس ڈیل کوخطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کا مقابلہ کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جارہاہے۔

امریکا اور برطانیہ سے سودا طے پانے کے بعد آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ 12 روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں تیارکرنے کا معاہدہ ختم کردیا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان 27 ارب ڈالرمالیت کا یہ معاہدہ 2016ء میں طے پایاتھا۔

اس پر فرانس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔اس نے امریکا پراس معاملے میں ’ملی بھگت‘اور آسٹریلیا پر’دھوکا دہی‘الزام عاید کیا اورکہا کہ ان کی اس نئی ڈیل سے مغربی اتحادوں کے مراکز میں ایک بحران پیدا ہوگیا ہے۔

یورپی یونین کے بعض لیڈروں نے بھی اس معاہدے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فرانس کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔فرانسیسی وزیرخارجہ وائی ایس لودریان نے اس اقدام کو’’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘‘کے مترادف قرار دیا ہے۔

فرانس نے امریکا اور آسٹریلیا میں متعیّن اپنے سفیروں کو بھی مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کہ فرانس نے واشنگٹن سے اپنے سفیر کوواپس بلایاہے۔