.

سعودی عرب دنیا میں امن کا داعی اورتنازعات کا پُرامن حل چاہتا ہے: شاہ سلمان

عالمی برادری دہشت گرد گروہوں اورفرقہ وارملیشیاؤں کے حامی اور سرپرست ملک کے سامنے پختہ عزم کے ساتھ کھڑی ہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور وہ اس عالمی ادارے کے مقاصد اوراصولوں پر کاربند ہے،جن کا مقصد بین الاقوامی امن وسلامتی کو برقرار رکھنا ہے،وہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے، وہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا حامی ہے اور ان کی خودمختاری اورآزادی کا احترام کرتاہے۔

وہ بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب نفرت اوراخراج پر مبنی انتہا پسندانہ نظریے ،دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وار ملیشیاؤں کی کارروائیوں کا مقابلہ کررہا ہے۔یہ انتہاپسند دہشت گرد گروہ لوگوں اور قوموں کو تباہ کرتے ہیں۔‘‘

شاہ سلمان نے کہا کہ’’ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور سعودی عرب کوامید ہے کہ اس کے ساتھ ابتدائی مذاکرات سے اعتماد کی فضا پیداکرنے کے لیے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں اور قراردادوں کی پاسداری کی بنیاد پردونوں ممالک کےعوام کی امنگوں کے مطابق دوطرفہ تعاون اور تعلقات کی راہ ہموارہوگی۔‘‘

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ’’ ایران دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے گااور دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے گا۔‘‘

شاہ سلمان نے مزید کہا کہ ’’مملکت مشرق اوسط کے خطے کو بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک بنانے کی اہمیت پرزوردیتی ہے،وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیارکرنے سے روکنے کے مقصد سے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتی ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اقدامات پراپنی گہری تشویش کا اظہارکرتی ہے کیونکہ یہ اس کے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے منافی ہیں اوراس کے ہمیشہ سے اعلان کردہ مؤقف کے بھی منافی ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام تو پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھاکہ ’’بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اورکھلونانما بارود سے لدی کشتیوں کے ذریعے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب کو اپنے دفاع کا جائزحق حاصل ہے اوروہ اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پرمسترد کرتا ہے۔‘‘

شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب اس امرپر زور دیتا ہے کہ عالمی برادری ہراس ملک یا شخص کے خلاف پختہ عزم کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو،جو دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وار ملیشیاؤں کی حمایت اورسرپرستی کرتا ہے،انھیں مالی وسائل مہیا کرتا ہے یاانھیں پناہ دیتا ہے یا انھیں انتشار اور تباہی پھیلانے اوراپنی بالادستی اوراثرورسوخ بڑھانے کے لیے ایک آلہ کار کے طورپراستعمال کرتا ہے۔‘‘

سعودی فرمانروا نے مزید کہا کہ مملکت کی خارجہ پالیسی امن واستحکام کی پائیداری، مکالمےاور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہےاور ایسے حالات فراہم کرنے کو بہت اہمیت دیتی ہے جو مشرق اوسط اور دنیا بھرمیں بہترکل اور ترقی کی ضمانت دیتے ہوں اور لوگوں کی خواہشات کے حصول میں معاون ہوں۔

انھوں نے مصر اورسوڈان کے درمیان نشاۃ ثانیہ ڈیم کے تنازع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس مسئلہ کے ایسے حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے آبی حقوق کا تحفظ ہو۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام لیبیا اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن حل اور افغانستان میں امن واستحکام کے حصول کی تمام کوششیں بروئے کارلانے کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے جنگ زدہ افغانستان کے تمام طبقات کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے پر بھی زوردیا۔

انھوں نے مملکت کےاس مؤقف کا اعادہ کیاکہ بین الاقوامی قراردادوں اورعرب امن اقدام کی بنیاد پرمسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے ذریعے ہی مشرقِ اوسَط کے خطے میں دیرپا امن قائم کیا جاسکتا ہے اور یہ امن مشرقِ اوسط کے لیے ایک تزویراتی آپشن ہے۔اس دیرینہ تنازع کے ایک ایسے حل کی ضرورت ہے جو فلسطینی عوام کے1967ء کی سرحدوں کے اندرمشرقی بیت المقدس (یروشلیم)دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق کی ضمانت دیتا ہو۔