.

فرانس اورامریکامیں آبدوزتنازع کے بعدپہلارابطہ؛ماکرون کا سفیرکوواشنگٹن لوٹنے کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدرجو بائیڈن نے فرانسیسی ہم منصب عمانوایل ماکرون سے بدھ کو ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے آسٹریلیا سے آبدوز کی ڈیل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اس فون کال کے بعد امریکا اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تعلقات ایک بارپھر درست نہج پرآگئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس اورایلزی محل کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہاگیا ہے کہ صدرماکرون نے فرانسیسی سفیر کو واشنگٹن لوٹ جانے کا حکم دیا ہے۔انھوں نے امریکا اورآسٹریلیا کے درمیان آبدوزوں کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کے ردعمل میں واشنگٹن سے اپنے سفیر کوواپس بلالیا تھا اور اب ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد انھیں واشنگٹن لوٹنے کی ہدایت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہ نماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فرانس اوریورپی شراکت داروں کے تزویراتی مفاد کے معاملات پراتحادیوں کے درمیان کھلی مشاورت سے طرفین کا فائدہ ہوگا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس موضوع پر مزید مشاورت کریں گےاور ان کا اجلاس اکتوبر میں ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایک مضبوط اور زیادہ قابل اعتبار یورپی دفاع کی اہمیت کوتسلیم کرتا ہے اور یہ بین البراعظمی اورعالمی سطح پرسلامتی میں مثبت کردار کا بھی عکاس ہےاور نیٹواتحاد کے مشن کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔

امریکا اوربرطانیہ نے 15ستمبر کوآسٹریلیا کے ساتھ ایک نئے ’ہند بحرالکاہل سکیورٹی اتحاد‘ کا اعلان کیا تھا۔اس ڈیل کے تحت آسٹریلیا کو جوہری طاقت سے لیس آبدوزیں مہیا کی جائیں گی۔اس ڈیل کوخطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کا مقابلہ کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جارہاہے۔اس نئے سکیورٹی اتحاد نے فرانس اور یورپی یونین کو حیرت زدہ کردیا تھا۔

امریکا اور برطانیہ سے نیا سودا طے پانے کے بعد آسٹریلیا نے فرانس کے ساتھ 12 روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں تیارکرنے کا معاہدہ ختم کردیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان 27 ارب ڈالرمالیت کا یہ معاہدہ 2016ء میں طے پایاتھا۔

اس پر فرانس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔اس نے امریکا پراس معاملے میں ’ملی بھگت‘اور آسٹریلیا پر’دھوکا دہی‘الزام عاید کیا تھا اورامریکا اور آسٹریلیا میں متعیّن اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔تاریخ میں یہ پہلاموقع تھا کہ فرانس نے واشنگٹن سے اپنے سفیر کوواپس بلایاہے۔

اس ڈیل کے بعد امریکا اور یورپ میں اس کے دیرینہ اتحادی کے دوطرفہ تعلقات میں تیزی سے بگاڑ آیا تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں فرانس کو آسٹریلیا سے طے شدہ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے سے محروم ہونا پڑا ہے۔صدرجو بائیڈن نے اس کشیدہ صورت حال میں صدرماکرون سے فوری طور پر کال کی درخواست کی تھی۔