.

مصری امام مسجد کی بیٹی روم کی سٹی کونسل کی رکنیت کے انتخابات کے لیے پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی میں مُقیم ایک مصری مبلغ اور مسجد کے امام کی بیس سالہ صاحب زادی دارالحکومت روم کی سٹی کونسل کے آئندہ ماہ اکتوبر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ امام مسجد سامی سالم کی بیٹی مریم علی اگرسٹی کونسل کے ارکان کے چناؤ میں کامیاب رہتی ہے تو روم میں وہ پہلی مسلمان خاتون ہوں گی جو سٹی کونسل کے اس اہم عہدے پر فائز ہوگی۔

مریم علی کئی سال سے اپنے خاندان کے ہمراہ روم میں مقیم ہے۔ وہ چہرے کا حجاب کرتی اور یونیورسٹی میں قانون کے مضمون میں تیسرے سال میں تعلیم حاصل کررہی ہے۔ مریم علی نے اپنے نام سے ایک یوٹیوپ چینل بھی بنا رکھا ہے۔

اس کے والد سامی سلیم نے قاہرہ یونیورسٹی سے قانون اور اسلامک اسٹڈیز میں گریجوایشن کی دو ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ ایک مسلمان مبلغ اور مسجد کے پیش امام ہیں مگران کا شمار اعتدال پسند اور حد درجہ روشن خیال علما میں ہوتا ہے۔ ان کی روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک بار چرچ میں جمعہ کا خطبہ دیا۔ چرچ میں کی گئی تقریر میں انہوں نے واضح طور پر شدت پسندی سے نفرت کا اظہارکیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امام مسجد سامی سالم کے بارے میں مزید جان کاری کے لیے اطالوی ذرائع ابلاغ میں ان کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کا مطالعہ کیا۔ اطالوی میڈیا میں سامی سالم کی اعتدال پسندی کے چرچے ہیں اور ان کی جواں سال بیٹی کی قانون کی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ روم بلدیہ کے الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق معلومات بھی دی گئی ہیں۔

مصری عالم دین سامی محمد علی سالم کی اہلیہ بھی مصری ہیں۔ مریم علی کے علاوہ ان کی تین مزید بیٹیاں تسنیم، صفا اور امینہ بھی ہیں۔ ان کی عمریں بالترتریب 13، 19 اور 22 سال ہیں۔

سامی سالم قاہرہ سے 125 کلو میٹر دور الدقھلیہ گورنری کے نواحی علاقے البصراط کی رہائشی ہیں۔ وہ 1994ء کو اپنے خاندان کے ہمراہ اٹلی منتقل ہوگئے تھے۔ اٹلی جانے کے 10 سال بعد انہوں نے وہاں ایک چھوٹی مسجد بنائی جسے مسجد ’فتح‘ کا نام دیا گیا۔ وہ اس وقت اٹلی میں Magliana کالونی کی ایک مسجد میں پیش امام ہیں۔

سامی سالم کی بیٹی مریم سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ ہیں۔’مصر24‘ چینل کی ویب سائٹ کے مطابق سامی سالم بچپن سے مریم کے ساتھ ہیں اور فلاحی کام کررہے ہیں۔