.

سعودی عرب سے مذاکرات میں ’سنجیدہ پیش رفت‘ ہوئی ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب نے خلیج کی سلامتی کے معاملے پرمذاکرات میں ’سنجیدہ پیش رفت‘کی ہے۔

انھوں نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں عراقی دارالحکومت بغداد میں سعودی حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت کے کئی ادوارہوئے ہیں۔ان میں مختلف دوطرفہ امور پرمفید تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ایرنا نے خطیب زادہ کے حوالے سے بتایا کہ ’’دونوں ملکوں میں خلیج میں سلامتی کے موضوع پر سنجیدہ پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘

انھوں نے مزیدکہا:’’ایران کے خیال میں خطے کے مسائل کاحل خطے کے اندرہی سے ایک ’جامع میکانزم‘کے ذریعے تلاش کیاجا سکتا ہے۔ ایران ایک طویل عرصے سے مشرقِ اوسط میں غیرملکی مداخلت کے خلاف آواز بلند کرتارہا ہے۔‘‘

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا:’’ایران ایک پڑوسی ملک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے ساتھ ہماری ابتدائی بات چیت اعتمادپیدا کرنےکے ٹھوس نتائج کا باعث بنے گی اور اس سے ہمارے عوام کی خواہشات کے مطابق دوطرفہ تعاون کے فروغ کی راہ ہموارہوگی۔‘‘

شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ ’’ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات ’بین الاقوامی قانون کے اصولوں‘ اورقراردادوں کی تعمیل، خودمختاری کے احترام اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وارملیشیاؤں کی ہر قسم کی حمایت سے دستبردار ہوجائے کیونکہ یہ گروپ صرف جنگ کے علمبردارہوتے ہیں اور دنیا کے لوگوں کے لیے تباہی اور مصائب کا سبب بنتے ہیں۔‘‘

سعودی عرب اور ایران نے اپریل میں اپنے درمیان پائی جانے والی دوطرفہ کشیدگی پرقابو پانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔عراقی صدر برہام صالح نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ بغداد نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی ہے۔

سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی طویل عرصے سے ایران کی یمن، شام اورعراق میں اپنے آلہ کاروں کے نیٹ ورک کے ذریعے تخریبی سرگرمیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔سعودی عرب کے علاوہ دوسرے خلیجی ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام کی بھی مذمت کی ہے جبکہ اس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ یہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔