.
افغانستان وطالبان

کیا طالبان دوبارہ پھانسی اور ہاتھ، پاؤں کاٹنے کی سزاؤں کا نفاذ کرنے والے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا ہے کہ افغانستان میں سنگین جرائم کے ارتکاب پر پھانسی اور اعضاء کاٹنے سمیت سخت سزاؤں کا دوبارہ نفاذ کیا جائے گا۔

طالبان نے 15اگست کو افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے 1996-2001 کے پہلے دور کے مقابلے میں ایک مختلف مگر خوش نما تشخص اجاگرکرنے کی کوشش کی ہے۔طالبان نے اپنے پہلے دور میں مجرموں کوسرعام موت کی نیند سلایا تھا، مساجد میں نمازادا نہ کرنے والے مردوں کو کوڑے مارے جاتے تھے،خواتین کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی اوروہ اسلامی قانون (شریعت) کی سخت تشریح کا نفاذ کرتے تھے۔

طالبان کی نئی حکومت بنیادی طور پران کے سینیرارکان پر مشتمل ہے۔انھوں نے کابل میں خواتین کے امور کی وزارت کو ختم کردیا ہےاوراس کی جگہ دوبارہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی وزارت قائم کردی ہے۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ طالبان نےاپنی بنیادی اقدارمیں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں لائی ہے کیونکہ طالبان کے ایک سینیر رہ نما ملّا نورالدین ترابی نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ گروپ جن سزاؤں کومناسب سمجھتا ہے، ان پرعمل درآمد کرے گا۔انھوں نے عالمی برادری سے افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت بندکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اسٹیڈیم یا کھلے میدان میں سزاؤں (سرعام پھانسی) کے نفاذ پر ہر کسی نے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن ہم نے تو کبھی ان کے قوانین اوران کے ہاں نافذالعمل سزاؤں کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ اب کوئی دوسرا ہمیں یہ نہیں بتائےکہ ہمارے قوانین کیا ہونے چاہییں۔ ہم اسلام کی پیروی کریں گے اور قرآن پرمبنی اپنے قوانین بنائیں گے۔‘‘

ملّا نورالدین ترابی طالبان کے سابقہ دورمیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر(نیکی کی تبلیغ اور برائی کی روک تھام) کی وزارت کے سربراہ تھے۔انھوں نے کہا کہ قتل کے جرم قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے گی۔طالبان جنگجوماضی میں ایسے مجرموں کو سرمیں گولی مارکر بھی ہلاک کرتے رہے ہیں۔

تاہم مقتول کے متاثرہ خاندان کے پاس یہ اختیار باقی ہے کہ وہ قصاص کے بجائے قاتل کی جان بخشی کے بدلے میں’خون بہا کی رقم‘(دیت) قبول کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چوروں اور ڈکیتوں کوقصور وار ثابت ہونے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی اور شاہراہوں پر مسلح ڈکیتیوں کے مجرموں کا الٹاایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹا جائے گا۔

ترابی کا کہنا ہے کہ ملک میں امن وامان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے کسی مجرم کا ہاتھ کاٹنا نہایت ضروری ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ طالبان کے سزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے جج حضرات مقدمات کا سماعت کے بعد فیصلہ کریں گے اور پھران کا نفاذ کیا جائے گا۔

ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم ماضی کے مقابلے میں اب بدل چکے ہیں۔اب طالبان ٹیلی ویژن، موبائل فون کے استعمال اور تصاویراور ویڈیو بنانے کی اجازت دیں گے کیونکہ یہ عوام کی ضرورت ہے اور ہم اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔طالبان میڈیا کو اپنا پیغام پھیلانےکے ایک ذریعے کے طور پرسمجھتے ہیں اورہم صرف سیکڑوں لوگوں تک پہنچنے کے بجائے لاکھوں تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘