.
یمن اور حوثی

حوثیوں کا انوکھا فیصلہ، خواتین کے ٹچ موبائل کے استعمال اور سنگھار پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے صنعاء صوبے کے ایک گاؤں کے شیوخ کو اس عہد پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں خواتین کو اسمارٹ فون اور میک اپ پاؤڈر کے استعمال سے روک دیں گے۔ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک دستاویز گردش میں آ رہی ہے۔ اس دستاویز پر صنعاء صوبے میں بنی حشیش ضلع کے ایک گاؤں کے شیوخ کے دستخط نظر آ رہے ہیں۔ دستاویز میں عہد کیا گیا ہے کہ خواتین کو ٹچ موبائل کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ جو کوئی اپنی بیوی کو مذکورہ موبائل دے گا اس پر 2 لاکھ یمنی ریال اور ایک عدد گائے دینے کا جرمانہ عائد ہو گا۔

دستاویز پر غضران گاؤں کے شیوخ اور عمائدین کے علاوہ علاقے میں حوثی ملیشیا کے نگراں ذمے داران کے بھی دستخط ہیں۔

اسی طرح دستاویز میں یہ بات بھی منظور کی گئی ہے کہ خواتین بالخصوص کنواری لڑکیوں کو شادی کی تقریبات میں سجنے سنورنے یا چہرے کا پاؤڈر استعمال کرنے یا ٹیکسی میں محرم کے بغیر سوار ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

دستاویز کی ایک شق میں لڑکیوں کا امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق اس کا مقصد "جنسی بلیک میلنگ" روکنا ہے۔

حوثی ملیشیا نے صنعاء صوبے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین کی آزادی کو نشانہ بنانے اور اسے کچلنے کے حوالے سے اپنی کارستانیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ اقدامات مختلف عنوانات کے تحت کیے جاتے ہیں جن میں مذہبی فرقہ واریت پر مبنی نمایاں ترین ہیں۔

اس سے قبل حوثی ملیشیا نے جامعات میں متعدد فیصلے لاگو کیے۔ یہ فیصلے مرد اور خواتین کے اختلاط، گریجویشن تقریب، مقامات عامہ پر لباس اور نشست، خواتین کے کیفوں کی بندش وغیرہ سے متعلق ہیں۔