.

سال 2023 تک کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کا امریکی عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 2023 کے آخر تک تمام کیمیائی ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کیمیائی اور حیاتیاتی تحفظ کے پروگرام کی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے دفاع برانڈی فین نے ایک سمپوزیم کے دوران کہا قانون سازی کے تحت مخصوص ذمہ داریوں کے حوالے سے ہمیں 31 دسمبر 2023 کی ڈیڈ لائن کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیں اس تاریخ تک کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا پابند کیا ہے لیکن حقیقت میں ہم ستمبر 2023 تک اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جیسا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن نے بیان کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ اس ڈیڈ لائن کو پورا کریں۔ امریکا کیمیائی ہتھیاروں کے اسلحہ خانے کو تباہ کرنے میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔ جلد از جلد ہم کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ طریقے سے تلف کر دیں گے۔

پینٹاگان کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اب تک اپنے 97 فیصد کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرچکا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت پر کنونشن 1997 میں قائم کیا گیا۔ یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ پورے کیمیائی ہتھیاروں کے اسلحہ کو 10 سالوں کے اندر اندر تباہ کرنا ہوگا لیکن امریکا نے کئی بار اپنے ہتھیاروں کی تباہی کی تکمیل کو ملتوی کیا ہے۔