.
افغانستان وطالبان

امریکی حکومت نے طالبان پر عائد معاشی پابندیاں نرم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے طالبان تحریک پر عائد اقتصادی پابندیوں میں دو قسم کی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد انسانی امداد کے افغانستان پہنچائے جانے کو آسان بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

پہلی چُھوٹ کے تحت امریکی حکومت، غیر سرکاری تنظیمیں اور بعض بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے افغانستان کے لیے انسانی امداد پیش کر سکیں گی۔ علاوہ ازیں ایسی سرگرمیاں بھی انجام دی جا سکیں گی جو بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں۔

دوسری چُھوٹ سے زرعی مصنوعات، ادویات اور طبی لوازمات کی برآمد کے ساتھ مربوط بعض معاملات کی اجازت ہو گی۔

دوسری جانب یورپی یونین اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوران میں ایک قرار داد منظور کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد افغانستان کے امور سے متعلق ایک خصوصی نمائندے کا تقرر ہے۔

یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کے کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کونسل افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پتہ چلانے کے لیے ایک میکانزم وضع کرے۔ البتہ اس منصوبے کو متعدد ممالک کی مخالفت کا سامنا ہے۔

مذکورہ نمائندہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں رپورٹ تیار کرے گا اور صورت حال بہتر بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے فرانس کے نئے سفیر جیروم بوناوون نے انسانی حقوق کی کونسل کے سامنے یورپی یونین کے 26 رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ "ہم طالبان کی جانب سے مرتکب پر تشدد اور دھمکی آمیز کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کا ارتکاب کرنے والوں کا محسابہ ہونا چاہیے ... ہم طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عارضی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا احترام کرے جس میں عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق بھی شامل ہیں"۔