.

میرکل کا جانشین کون؟ غیر یقینی جرمن انتخابات میں ووٹنگ کا سلسلہ مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی ميں پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ووٹ ڈالنے کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شروع ہوا جو شام چھ بجے تک جاری رہا۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر ميں لگ بھگ اٹھاسی ہزار پولنگ اسٹيشنز پر ووٹنگ جاری ہے اور ساڑھے چھ لاکھ رضاکار ان اسٹيشنز پر خدمات سر انجام دے رہے ہيں۔ اليکشن ميں اس بار مجوعی طور پر سينتاليس جماعتيں حصہ لے رہی تھیں۔ پارليمان ميں نمائندگی حاصل کرنے کے ليے کسی بھی جماعت کے ليے کم از کم پانچ فيصد عوامی تائيد حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس اليکشن ميں 60.4 ملين افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہيں۔

انجیلا میرکل
انجیلا میرکل

کرسچيئن ڈيموکريٹک يونين (CDU) اور صوبہ باويريا ميں اس کی اتحادی جماعت کرسچيئن سوشل يونين (CSU)، فری ڈيموکريٹس (FDP)، ماحول دوست گرين پارٹی، دائيں بازو کی عواميت پسند جماعت آلٹرنيٹوو فار ڈوئچلانڈ (AfD) اور سوشلسٹ ليفٹ پارٹی گزشتہ چار برسوں کے دوران پارليمان کا حصہ رہی ہيں۔


جرمن انتخابات کا طریقہ کار؟

جرمن اليکٹورل سسٹم ذرا مختلف طريقے سے کام کرتا ہے۔ آج ڈالے گئے ووٹوں کے ذریعے براہ راست چانسلر کا انتخاب نہيں ہو گا بلکہ ووٹرز پارليمان کے ارکان چنيں گے۔ ہر ووٹر دو ووٹ ڈال سکتا ہے۔ پہلا ووٹ ضلعی نمائندے کے انتخاب کے ليے ہوتا ہے۔ اس سے يہ بات يقينی ہو جاتی ہے کہ ملک کے ہر ضلعے اور خطے سے کوئی نہ کوئی رکن پارليمان تک لازمی پہنچے۔ جرمنی ميں مجموعی طور پر 299 اليکٹورل ڈسٹرکٹس ہيں۔ پھر دوسرا ووٹ کسی سياسی پارٹی کو ڈالا جاتا ہے، جس سے بنڈس ٹاگ يا پارليمان تشکيل دی جاتی ہے۔

ہیکنگ کا خطرہ

ہيکنگ کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے جرمنی ميں اليکشن روايتی طريقہ کار ہی سے ہو رہے ہيں۔ ايگزٹ پولز کے نتائج فوری طور پر چھ بجے تک متوقع ہيں مگر يہ حتمی نہيں ہوتے اور سياسی پارٹياں انہيں چيلنج کر سکتی ہيں۔ نو منتخب نمائندگان کو تيس دنوں کے اندر اندر پارليمان کے اجلاس ميں شرکت کرنی ہوتی ہے، گو کہ حکومت کا قيام اس وقت تک ضروری نہيں۔

جرمن صدر فرانک والٹر ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں
جرمن صدر فرانک والٹر ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں

حکومت سازی کا مرحلہ چند ماہ تک چل سکتا ہے۔ نئی حکومت پچاس فيصد سے زيادہ اکثريت حاصل کرنے اور چانسلر کے انتخاب کے بعد ہی عمل ميں آتی ہے۔ بعد ازاں چانسلر کابينہ کے ارکان و وزراء کا اعلان کرتا ہے۔ اس وقت تک انیجلا ميرکل ہی حکومت سنبھاليں گی۔