.

افغانستان : فرعونی آثار قدیمہ کی اشیاء کی تصاویر تنازع کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں ایک مقامی ذمے دار نے انکشاف کیا ہے کہ ہرات صوبے میں تاریخی آثار قدیمہ کی متعدد اشیاء موجود ہیں ، ان میں فرعونی دور کے نوادارت بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ تمام اشیاء اصلی نہیں بلکہ ان میں جعلی اور بے قیمت اشیاء بھی ملا دی گئی ہیں۔

صوبے میں رابطہ افسر مولوی عبدالحنان حامد نے باور کرایا کہ ہرات میں گریان کے علاقے میں آثار قدیمہ کی کئی اشیاء ملیں جن کو افغانستان کے قومی عجائب خانے کے حوالے کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان اشیاء میں دو بڑی نعشوں اور ایک چھوٹے تابوت کے علاوہ لکڑی کے 48 بڑے چھوٹے مجسمے اور 14 تاریخی نوادارات شامل ہیں۔

بختار افغان نیوز ایجنسی کے مطابق حامد نے واضح کیا کہ ان میں بعض اشیاء جعلی ہیں۔ اسمگلروں نے لوگوں کو پھسلا کر مال بٹورنے کی کوشش کی۔ معاملے سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے ساتھ تحقیق جاری ہے۔

دوسری جانب افغان قومی عجائب خانے کے ڈائریکٹر محمد فہیم رحیمی کے مطابق مذکورہ اشیاء میں اسلامی دور (گیارہویں اور بارہویں صدی میں غزنوی اور تیمور کے زمانوں) سے مربوط قیمتی اور تاریخی چیزیں شامل ہیں۔